کلامِ میرردیف ن
درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوں
درد و اندوہ میں ٹھہرا جو رہا میں ہی ہوںرنگ رو جس کے کبھو منہ نہ چڑھا میں ہی ہوں
جس پہ کرتے ہو سدا جور و جفا میں ہی ہوںپھر بھی جس کو ہے گماں تم سے وفا میں ہی ہوں
بد کہا میں نے رقیبوں کو تو تقصیر ہوئیکیوں ہے بخشو بھی بھلا سب میں برا میں ہی ہوں
اپنے کوچے میں فغاں جس کی سنو ہو ہر راتوہ جگر سوختہ و سینہ جلا میں ہی ہوں
خار کو جن نے لڑی موتی کی کر دکھلایااس بیابان میں وہ آبلہ پا میں ہی ہوں
لطف آنے کا ہے کیا بس نہیں اب تاب جفااتنا عالم ہے بھرا جاؤ نہ کیا میں ہی ہوں
رک کے جی ایک جہاں دوسرے عالم کو گیاتن تنہا نہ ترے غم میں ہوا میں ہی ہوں
اس ادا کو تو ٹک اک سیر کر انصاف کرووہ برا ہے گا بھلا دوستو یا میں ہی ہوں
میں یہ کہتا تھا کہ دل جن نے لیا کون ہے وہیک بیک بول اٹھا اس طرف آ میں ہی ہوں
جب کہا میں نے کہ تو ہی ہے تو پھر کہنے لگاکیا کرے گا تو مرا دیکھوں تو جا میں ہی ہوں
سنتے ہی ہنس کے ٹک اک سوچیو کیا تو ہی تھاجن نے شب رو کے سب احوال کہا میں ہی ہوں
میرؔ آوارۂ عالم جو سنا ہے تو نےخاک آلودہ وہ اے باد صبا میں ہی ہوں
کاسۂ سر کو لیے مانگتا دیدار پھرےمیرؔ وہ جان سے بیزار گدا میں ہی ہوں
۱۸۴ / ۵۸۲