کلامِ میرردیف ن
دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیں
۱
دن نہیں رات نہیں صبح نہیں شام نہیںوقت ملنے کا مگر داخل ایام نہیں
۲
مثل عنقا مجھے تم دور سے سن لو ورنہننگ ہستی ہوں مری جائے بجز نام نہیں
۳
خطر راہ وفا بلکہ بہت دور کھنچاعمر گزری کہ بہم نامہ و پیغام نہیں
۴
راز پوشی محبت کے تئیں چاہیے ضبطسو تو بے تابئ دل بن مجھے آرام نہیں
۵
بے قراری جو کوئی دیکھے ہے سو کہتا ہےکچھ تو ہے میرؔ کہ اک دم تجھے آرام نہیں
۱۸۵ / ۵۸۲