کلامِ میرردیف ن

رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیں

۱

رفتگاں میں جہاں کے ہم بھی ہیںساتھ اس کارواں کے ہم بھی ہیں

۲

شمع ہی سر نہ دے گئی بربادکشتہ اپنی زباں کے ہم بھی ہیں

۳

ہم کو مجنوں کو عشق میں مت بوجھننگ اس خانداں کے ہم بھی ہیں

۴

جس چمن زار کا ہے تو گل تربلبل اس گلستاں کے ہم بھی ہیں

۵

نہیں مجنوں سے دل قوی لیکنیار اس ناتواں کے ہم بھی ہیں

۶

بوسہ مت دے کسو کے در پہ نسیمخاک اس آستاں کے ہم بھی ہیں

۷

گو شب اس در سے دور پہروں پھریںپاس تو پاسباں کے ہم بھی ہیں

۸

وجہ بیگانگی نہیں معلومتم جہاں کے ہو واں کے ہم بھی ہیں

۹

مر گئے مر گئے نہیں تو نہیںخاک سے منہ کو ڈھانکے ہم بھی ہیں

۱۰

اپنا شیوہ نہیں کجی یوں تویار جی ٹیڑھے بانکے ہم بھی ہیں

۱۱

اس سرے کی ہے پارسائی میرؔمعتقد اس جواں کے ہم بھی ہیں

۱۸۷ / ۵۸۲