کلامِ میرردیف ن

زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میں

۱

زباں رکھ غنچہ ساں اپنے دہن میںبندھی مٹھی چلا جا اس چمن میں

۲

نہ کھول اے یار میرا گور میں منہکہ حسرت ہے مری جاگا کفن میں

۳

رکھا کر ہاتھ دل پر آہ کرتےنہیں رہتا چراغ ایسی پون میں

۴

جلے دل کی مصیبت اپنے سن کرلگی ہے آگ سارے تن بدن میں

۵

نہ تجھ بن ہوش میں ہم آئے ساقیمسافر ہی رہے اکثر وطن میں

۶

خرد مندی ہوئی زنجیر ورنہگزرتی خوب تھی دیوانہ پن میں

۷

کہاں کے شمع و پروانے گئے مربہت آتش بجاں تھے اس چمن میں

۸

کہاں عاجز سخن قادر سخن ہوںہمیں ہے شبہ یاروں کے سخن میں

۹

گداز عشق میں بہ بھی گیا میرؔیہی دھوکا سا ہے اب پیرہن میں

۱۸۸ / ۵۸۲