کلامِ میرردیف ن
سوزش دل سے مفت گلتے ہیں
۱
سوزش دل سے مفت گلتے ہیںداغ جیسے چراغ جلتے ہیں
۲
اس طرح دل گیا کہ اب تک ہمبیٹھے روتے ہیں ہاتھ ملتے ہیں
۳
بھری آتی ہیں آج یوں آنکھیںجیسے دریا کہیں ابلتے ہیں
۴
دم آخر ہے بیٹھ جا مت جاصبر کر ٹک کہ ہم بھی چلتے ہیں
۵
تیرے بے خود جو ہیں سو کیا چیتیںایسے ڈوبے کہیں اچھلتے ہیں
۶
فتنہ درسر بتان حشر خرامہائے رے کس ٹھسک سے چلتے ہیں
۷
نظر اٹھتی نہیں کہ جب خوباںسوتے سے اٹھ کے آنکھ ملتے ہیں
۸
اس سر زلف کا خیال نہ چھوڑسانپ کے سر ہی یاں کچلتے ہیں
۹
تھے جو اغیار سنگ سینے کےاب تو کچھ ہم کو دیکھ ٹلتے ہیں
۱۰
شمع رو موم کے بنے ہیں مگرگرم ٹک ملیے تو پگھلتے ہیں
۱۱
میرؔ صاحب کو دیکھیے جو بنےاب بہت گھر سے کم نکلتے ہیں
۱۸۹ / ۵۸۲