کلامِ میرردیف ن

لب ترے لعل ناب ہیں دونوں

۱

لب ترے لعل ناب ہیں دونوںپر تمامی عتاب ہیں دونوں

۲

رونا آنکھوں کا روئیے کب تکپھوٹنے ہی کے باب ہیں دونوں

۳

ہے تکلف نقاب وے رخسارکیا چھپیں آفتاب ہیں دونوں

۴

تن کے معمورے میں یہی دل و چشمگھر تھے دو سو خراب ہیں دونوں

۵

کچھ نہ پوچھو کہ آتش غم سےجگر و دل کباب ہیں دونوں

۶

سو جگہ اس کی آنکھیں پڑتی ہیںجیسے مست شراب ہیں دونوں

۷

پاؤں میں وہ نشہ طلب کا نہیںاب تو سرمست خواب ہیں دونوں

۸

ایک سب آگ ایک سب پانیدیدہ و دل عذاب ہیں دونوں

۹

بحث کاہے کو لعل و مرجاں سےاس کے لب ہی جواب ہیں دونوں

۱۰

آگے دریا تھے دیدۂ تر میرؔاب جو دیکھو سراب ہیں دونوں

۱۹۰ / ۵۸۲