کلامِ میرردیف ن
عام حکم شراب کرتا ہوں
۱
عام حکم شراب کرتا ہوںمحتسب کو کباب کرتا ہوں
۲
ٹک تو رہ اے بنائے ہستی توتجھ کو کیسا خراب کرتا ہوں
۳
بحث کرتا ہوں ہو کے ابجد خواںکس قدر بے حساب کرتا ہوں
۴
کوئی بجھتی ہے یہ بھڑک میں عبثتشنگی پر عتاب کرتا ہوں
۵
سر تلک آب تیغ میں ہوں غرقاب تئیں آب آب کرتا ہوں
۶
جی میں پھرتا ہے میرؔ وہ میرےجاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں
۱۹۱ / ۵۸۲