کلامِ میرردیف ن

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیں

۱

غزل میرؔ کی کب پڑھائی نہیںکہ حالت مجھے غش کی آئی نہیں

۲

زباں سے ہماری ہے صیاد خوشہمیں اب امید رہائی نہیں

۳

کتابت گئی کب کہ اس شوخ نےبنا اس کی گڈی اڑائی نہیں

۴

نسیم آئی میرے قفس میں عبثگلستاں سے دو پھول لائی نہیں

۵

مری دل لگی اس کے رو سے ہی ہےگل تر سے کچھ آشنائی نہیں

۶

نوشتے کی خوبی لکھی کب گئیکتابت بھی ایک اب تک آئی نہیں

۷

جدا رہتے برسوں ہوئے کیونکہ یہکنایہ نہیں بے ادائی نہیں

۸

گلہ ہجر کا سن کے کہنے لگاہمارے تمہارے جدائی نہیں

۹

سیہ طالعی میری ظاہر ہے ابنہیں شب کہ اس سے لڑائی نہیں

۱۹۲ / ۵۸۲