کلامِ میرردیف ن

مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوں

۱

مثال سایہ محبت میں جال اپنا ہوںتمہارے ساتھ گرفتار حال اپنا ہوں

۲

سرشک سرخ کو جاتا ہوں جو پیے ہر دملہو کا پیاسا علی الاتصال اپنا ہوں

۳

اگرچہ نشہ ہوں سب میں خم جہاں میں لیکبرنگ مے عرق انفعال اپنا ہوں

۴

مری نمود نے مجھ کو کیا برابر خاکمیں نقش پا کی طرح پائمال اپنا ہوں

۵

ہوئی ہے زندگی دشوار مشکل آساں کرپھروں چلوں تو ہوں پر میں وبال اپنا ہوں

۶

ترا ہے وہم کہ یہ ناتواں ہے جامے میںوگرنہ میں نہیں اب اک خیال اپنا ہوں

۷

بلا ہوئی ہے مری گو کا طبع روشن میرؔہوں آفتاب ولیکن زوال اپنا ہوں

۱۹۳ / ۵۸۲