کلامِ میرردیف ن
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوں
۱
میں کون ہوں اے ہم نفساں سوختہ جاں ہوںاک آگ مرے دل میں ہے جو شعلہ فشاں ہوں
۲
لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہرمیں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں
۳
جلوہ ہے مجھی سے لب دریاے سخن پرصد رنگ مری موج ہے میں طبع رواں ہوں
۴
پنجہ ہے مرا پنجۂ خورشید میں ہر صبحمیں شانہ صفت سایۂ رو زلف بتاں ہوں
۵
دیکھا ہے مجھے جن نے سو دیوانہ ہے میرامیں باعث آشفتگیٔ طبع جہال ہوں
۶
تکلیف نہ کر آہ مجھے جنبش لب کیمیں صد سخن آغشتہ بہ خوں زیر زباں ہوں
۷
ہوں زرد غم تازہ نہالان چمن سےاس باغ خزاں دیدہ میں میں برگ خزاں ہوں
۸
رکھتی ہے مجھے خواہش دل بسکہ پریشاںدرپئے نہ ہو اس وقت خدا جانے کہاں ہوں
۹
اک وہم نہیں بیش مری ہستئ موہوماس پر بھی تری خاطر نازک پہ گراں ہوں
۱۰
خوش باشی و تنزیہ و تقدس تھے مجھے میرؔاسباب پڑے یوں کہ کئی روز سے یاں ہوں
۱۹۴ / ۵۸۲