کلامِ میرردیف ن
مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میں
۱
مر مر گئے نظر کر اس کے برہنہ تن میںکپڑے اتارے ان نے سر کھینچے ہم کفن میں
۲
گل پھول سے کب اس بن لگتی ہیں اپنی آنکھیںلائی بہار ہم کو زورآوری چمن میں
۳
اب لعل نو خط اس کے کم بخشتے ہیں فرحتقوت کہاں رہے ہے یاقوتی کہن میں
۴
یوسف عزیز دلا جا مصر میں ہوا تھاپاکیزہ گوہروں کی عزت نہیں وطن میں
۵
دیر و حرم سے تو تو ٹک گرم ناز نکلاہنگامہ ہو رہا ہے اب شیخ و برہمن میں
۶
آ جاتے شہر میں تو جیسے کہ آندھی آئیکیا وحشتیں کیا ہیں ہم نے دوان پن میں
۷
ہیں گھاؤ دل پر اپنے تیغ زباں سے سب کیتب درد ہے ہمارے اے میرؔ ہر سخن میں
۱۹۵ / ۵۸۲