کلامِ میرردیف ن

مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاں

۱

مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاںجاتی ہیں لا مکاں کو دل شب کی زاریاں

۲

چہرے پہ جیسے زخم ہے ناخن کا ہر خراشاب دیدنی ہوئی ہیں مری دستکاریاں

۳

سو بار ہم نے گل کے گئے پر چمن کے بیچبھر دی ہیں آب چشم سے راتوں کو کیاریاں

۴

کشتے کی اس کے خاک بھرے جسم زار پرخالی نہیں ہیں لطف سے لوہو کی دھاریاں

۵

تربت سے عاشقوں کے نہ اٹھا کبھو غبارجی سے گئے ولے نہ گئیں راز داریاں

۶

اب کس کس اپنی خواہش مردہ کو روئیےتھیں ہم کو اس سے سینکڑوں امیدواریاں

۷

پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگمدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں

۸

کیا جانتے تھے ایسے دن آ جائیں گے شتابروتے گذرتیاں ہیں ہمیں راتیں ساریاں

۹

گل نے ہزار رنگ سخن سر کیا ولےدل سے گئیں نہ باتیں تری پیاری پیاریاں

۱۰

جاؤ گے بھول عہد کو فرہاد و قیس کےگر پہنچیں ہم شکستہ دلوں کی بھی باریاں

۱۱

بچ جاتا ایک رات جو کٹ جاتی اور میرؔکاٹیں تھیں کوہ کن نے بہت راتیں بھاریاں

۱۹۶ / ۵۸۲