کلامِ میرردیف ن
مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاں
مشہور ہیں دنوں کی مرے بے قراریاںجاتی ہیں لا مکاں کو دل شب کی زاریاں
چہرے پہ جیسے زخم ہے ناخن کا ہر خراشاب دیدنی ہوئی ہیں مری دستکاریاں
سو بار ہم نے گل کے گئے پر چمن کے بیچبھر دی ہیں آب چشم سے راتوں کو کیاریاں
کشتے کی اس کے خاک بھرے جسم زار پرخالی نہیں ہیں لطف سے لوہو کی دھاریاں
تربت سے عاشقوں کے نہ اٹھا کبھو غبارجی سے گئے ولے نہ گئیں راز داریاں
اب کس کس اپنی خواہش مردہ کو روئیےتھیں ہم کو اس سے سینکڑوں امیدواریاں
پڑھتے پھریں گے گلیوں میں ان ریختوں کو لوگمدت رہیں گی یاد یہ باتیں ہماریاں
کیا جانتے تھے ایسے دن آ جائیں گے شتابروتے گذرتیاں ہیں ہمیں راتیں ساریاں
گل نے ہزار رنگ سخن سر کیا ولےدل سے گئیں نہ باتیں تری پیاری پیاریاں
جاؤ گے بھول عہد کو فرہاد و قیس کےگر پہنچیں ہم شکستہ دلوں کی بھی باریاں
بچ جاتا ایک رات جو کٹ جاتی اور میرؔکاٹیں تھیں کوہ کن نے بہت راتیں بھاریاں
۱۹۶ / ۵۸۲