کلامِ میرردیف ن
موے سہتے سہتے جفا کاریاں
۱
موے سہتے سہتے جفا کاریاںکوئی ہم سے سیکھے وفاداریاں
۲
ہماری تو گزری اسی طور عمریہی نالہ کرنا یہی زاریاں
۳
فرشتہ جہاں کام کرتا نہ تھامری آہ نے برچھیاں ماریاں
۴
گیا جان سے اک جہاں لے کے شوخنہ تجھ سے گئیں یہ دل آزاریاں
۵
کہاں تک یہ تکلیف ما لا یطاقہوئیں مدتوں ناز برداریاں
۶
خط و کاکل و زلف و انداز و نازہوئیں دام رہ صد گرفتاریاں
۷
کیا درد و غم نے مجھے ناامیدکہ مجنوں کو یہ ہی تھیں بیماریاں
۸
تری آشنائی سے ہی حد ہوئیبہت کی تھیں دنیا میں ہم یاریاں
۹
نہ بھائی ہماری تو قدرت نہیںکھنچیں میرؔ تجھ سے ہی یہ خواریاں
۱۹۷ / ۵۸۲