کلامِ میرردیف ن

نکلے ہے جنس حسن کسی کارواں میں

۱

نکلے ہے جنس حسن کسی کارواں میںیہ وہ نہیں متاع کہ ہو ہر دکان میں

۲

جاتا ہے اک ہجوم غم عشق جی کے ساتھہنگامہ لے چلے ہیں ہم اس بھی جہان میں

۳

یا رب کوئی تو واسطہ سرگشتگی کا ہےیک عشق بھر رہا ہے تمام آسمان میں

۴

ہم اس سے آہ سوز دل اپنا نہ کہہ سکےتھے آتش دروں سے پھپھولے زبان میں

۵

غم کھینچنے کو کچھ تو توانائی چاہیےسویاں نہ دل میں تاب نہ طاقت ہے جان میں

۶

غافل نہ رہیو ہم سے کہ ہم وے نہیں رہےہوتا ہے اب تو حال عجب ایک آن میں

۷

وے دن گئے کہ آتش غم دل میں تھی نہاںسوزش رہے ہے اب تو ہر اک استخوان میں

۸

دل نذر و دیدہ پیشکش اے باعث حیاتسچ کہہ کہ جی لگے ہے ترا کس مکان میں

۹

کھینچا نہ کر تو تیغ کہ اک دن نہیں ہیں ہمظالم قباحتیں ہیں بہت امتحان میں

۱۰

پھاڑا ہزار جا سے گریبان صبر میرؔکیا کہہ گئی نسیم سحر گل کے کان میں

۱۹۸ / ۵۸۲