کلامِ میرردیف ن
مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوں
مستوجب ظلم و ستم و جور و جفا ہوںہر چند کہ جلتا ہوں پہ سرگرم وفا ہوں
آتے ہیں مجھے خوب سے دونوں ہنر عشقرونے کے تئیں آندھی ہوں کڑھنے کو بلا ہوں
اس گلشن دنیا میں شگفتہ نہ ہوا میںہوں غنچۂ افسردہ کہ مردود صبا ہوں
ہم چشم ہے ہر آبلۂ پا کا مرا اشکاز بس کہ تری راہ میں آنکھوں سے چلا ہوں
آیا کوئی بھی طرح مرے چین کی ہوگیآزردہ ہوں جینے سے میں مرنے سے خفا ہوں
دامن نہ جھٹک ہاتھ سے میرے کہ ستم گرہوں خاک سر راہ کوئی دم میں ہوا ہوں
دل خواہ جلا اب تو مجھے اے شب ہجراںمیں سوختہ بھی منتظر روز جزا ہوں
گو طاقت و آرام و خور و خواب گئے سببارے یہ غنیمت ہے کہ جیتا تو رہا ہوں
اتنا ہی مجھے علم ہے کچھ میں ہوں بہر چیزمعلوم نہیں خوب مجھے بھی کہ میں کیا ہوں
بہتر ہے غرض خامشی ہی کہنے سے یاراںمت پوچھو کچھ احوال کہ مر مر کے جیا ہوں
تب گرم سخن کہنے لگا ہوں میں کہ اک عمرجوں شمع سر شام سے تا صبح جلا ہوں
سینہ تو کیا فضل الٰہی سے سبھی چاکہے وقت دعا میرؔ کہ اب دل کو لگا ہوں
۱۹۹ / ۵۸۲