کلامِ میرردیف ن
کیا میں نے رو کر فشار گریباں
۱
کیا میں نے رو کر فشار گریباںرگ ابر تھا تار تار گریباں
۲
کہیں دست چالاک ناخن نہ لاگےکہ سینہ ہے قرب و جوار گریباں
۳
نشاں اشک خونیں کے اڑتے چلے ہیںخزاں ہو چلی ہے بہار گریباں
۴
جنوں تیری منت ہے مجھ پر کہ تو نےنہ رکھا مرے سر پہ بار گریباں
۵
زیارت کروں دل سے خستہ جگر کیکہاں ہوگی یا رب مزار گریباں
۶
کہیں جائے یہ دور دامن بھی جلدیکہ آخر ہوا روزگار گریباں
۷
پھروں میرؔ عریاں نہ دامن کا غم ہونہ باقی رہے خار خار گریباں
۲۰۴ / ۵۸۲