کلامِ میرردیف ن
کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاں
۱
کھوویں ہیں نیند میری مصیبت بیانیاںتم بھی تو ایک رات سنو یہ کہانیاں
۲
کیا آگ دے کے طور کو کی ترک سرکشیاس شعلے کی وہی ہیں شرارت کی بانیاں
۳
صحبت رکھا کیا وہ سفیہ و ضلال سےدل ہی میں خوں ہوا کیں مری نکتہ دانیاں
۴
ہم سے تو کینے ہی کی ادائیں چلی گئیںبے لطفیاں یہی یہی نا مہربانیاں
۵
تلوار کے تلے ہی گیا عہد انبساطمر مر کے ہم نے کاٹی ہیں اپنی جوانیاں
۶
گالی سوائے مجھ سے سخن مت کیا کرواچھی لگے ہیں مجھ کو تری بد زبانیاں
۷
غیروں ہی کے سخن کی طرف گوش یار تھےاس حرف ناشنو نے ہماری نہ مانیاں
۸
یہ بے قراریاں نہ کبھو ان نے دیکھیاںجاں کاہیاں ہماری بہت سہل جانیاں
۹
مارا مجھے بھی سان کے غیروں میں ان نے میرؔکیا خاک میں ملائیں مری جاں فشانیاں
۲۰۵ / ۵۸۲