کلامِ میرردیف ن
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریں
کر نالہ کشی کب تئیں اوقات گزاریںفریاد کریں کس سے کہاں جا کے پکاریں
ہر دم کا بگڑنا تو کچھ اب چھوٹا ہے ان سےشاید کسی ناکام کا بھی کام سنواریں
دل میں جو کبھو جوش غم اٹھتا ہے تو تا دیرآنکھوں سے چلی جاتی ہیں دریا کی سی دھاریں
کیا ظلم ہے اس خونی عالم کی گلی میںجب ہم گئے دو چار نئی دیکھیں مزاریں
جس جا کہ خس و خار کے اب ڈھیر لگے ہیںیاں ہم نے انہیں آنکھوں سے دیکھیں ہیں بہاریں
کیوں کر کے رہے شرم مری شہر میں جب آہناموس کہاں اتریں جو دریا پہ ازاریں
وے ہونٹ کہ ہے شور مسیحائی کا جن کیدم لیویں نہ دو چار کو تا جی سے نہ ماریں
منظور ہے کب سے سر شوریدہ کا دیناچڑھ جائے نظر کوئی تو یہ بوجھ اتاریں
بالیں پہ سر اک عمر سے ہے دست طلب کاجو ہے سو گدا کس کنے جا ہاتھ پساریں
ان لوگوں کے تو گرد نہ پھر سب ہیں لباسیسو گز بھی جو یہ پھاڑیں تو اک گز بھی نہ واریں
ناچار ہو رخصت جو منگا بھیجی تو بولامیں کیا کروں جو میرؔ جی جاتے ہیں سدھاریں
۲۰۶ / ۵۸۲