کلامِ میرردیف ن
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیں
۱
ہم آپ ہی کو اپنا مقصود جانتے ہیںاپنے سوائے کس کو موجود جانتے ہیں
۲
عجز و نیاز اپنا اپنی طرف ہے سارااس مشت خاک کو ہم مسجود جانتے ہیں
۳
صورت پذیر ہم بن ہرگز نہیں وے مانےاہل نظر ہمیں کو معبود جانتے ہیں
۴
عشق ان کی عقل کو ہے جو ماسوا ہمارےناچیز جانتے ہیں نا بود جانتے ہیں
۵
اپنی ہی سیر کرنے ہم جلوہ گر ہوئے تھےاس رمز کو ولیکن معدود جانتے ہیں
۶
یا رب کسے ہے ناقہ ہر غنچہ اس چمن کاراہ وفا کو ہم تو مسدود جانتے ہیں
۷
یہ ظلم بے نہایت دشوار تر کہ خوباںبد وضعیوں کو اپنی محمود جانتے ہیں
۸
کیا جانے داب صحبت از خویش رفتگاں کامجلس میں شیخ صاحب کچھ کود جانتے ہیں
۹
مر کر بھی ہاتھ آوے تو میرؔ مفت ہے وہجی کے زیان کو بھی ہم سود جانتے ہیں
۲۰۷ / ۵۸۲