کلامِ میرردیف ن
کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیں
۱
کیا کہیں آتش ہجراں سے گلے جاتے ہیںچھاتیاں سلگیں ہیں ایسی کہ جلے جاتے ہیں
۲
گوہر گوش کسو کا نہیں جی سے جاتاآنسو موتی سے مرے منہ پہ ڈھلے جاتے ہیں
۳
یہی مسدود ہے کچھ راہ وفا ورنہ بہمسب کہیں نامہ و پیغام چلے جاتے ہیں
۴
بار حرمان و گل و داغ نہیں اپنے ساتھشجر باغ وفا پھولے پھلے جاتے ہیں
۵
حیرت عشق میں تصویر سے رفتہ ہی رہےایسے جاتے ہیں جو ہم بھی تو بھلے جاتے ہیں
۶
ہجر کی کوفت جو کھینچے ہیں انہیں سے پوچھودل دیے جاتے ہیں جی اپنے ملے جاتے ہیں
۷
یاد قد میں ترے آنکھوں سے بہیں ہیں جوئیںگر کسو باغ میں ہم سرو تلے جاتے ہیں
۸
دیکھیں پیش آوے ہے کیا عشق میں اب تو جوں سیلہم بھی اس راہ میں سر گاڑے چلے جاتے ہیں
۹
پر غبارئ جہاں سے نہیں سدھ میرؔ ہمیںگرد اتنی ہے کہ مٹی میں رلے جاتے ہیں
۲۰۸ / ۵۸۲