کلامِ میرردیف ن

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیں

۱

گزر جان سے اور ڈر کچھ نہیںرہ عشق میں پھر خطر کچھ نہیں

۲

ہے اب کام دل جس پہ موقوف تووہ نالہ کہ جس میں اثر کچھ نہیں

۳

ہوا مائل اس سرو کا دل مرابجز جور جس سے ثمر کچھ نہیں

۴

نہ کر اپنے محووں کا ہرگز سراغگئے گزرے بس اب خبر کچھ نہیں

۵

تری ہو چکی خشک مژگاں کی سبلہو اب جگر میں مگر کچھ نہیں

۶

حیا سے نہیں پشت پا پر وہ چشممرا حال مد نظر کچھ نہیں

۷

کروں کیونکے انکار عشق آہ میںیہ رونا بھلا کیا ہے گر کچھ نہیں

۸

کمر اس کی رشک رگ جاں ہے میرؔغرض اس سے باریک تر کچھ نہیں

۲۰۹ / ۵۸۲