کلامِ میرردیف ن

گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میں

۱

گر کچھ ہو درد آئینہ یوں چرخ زشت میںان صورتوں کو صرف کرے خاک و خشت میں

۲

رکھتا ہے سوز عشق سے دوزخ میں روز و شبلے جائے گا یہ سوختہ دل کیا بہشت میں

۳

آسودہ کیونکے ہوں میں کہ مانند گرد بادآوارگی تمام ہے میری سرشت میں

۴

کب تک خراب سعی طواف حرم رہوںدل کو اٹھا کے بیٹھ رہوں گا کنشت میں

۵

ماتم کے ہوں زمین پہ خرمن تو کیا عجبہوتا ہے نیل چرخ کی اس سبز کشت میں

۶

سرمست ہم ہیں آنکھوں کے دیکھے سے یار کیکب یہ نشہ ہے دختر رز تجھ پلشت میں

۷

رندوں کے تئیں ہمیشہ ملامت کرے ہے توآجائیو نہ شیخ کہیں ہشت بہشت میں

۸

نامے کو چاک کر کے کرے نامہ بر کو قتلکیا یہ لکھا تھا میرؔ مری سرنوشت میں

۲۱۱ / ۵۸۲