کلامِ میرردیف ن

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوں

۱

یارو مجھے معاف رکھو میں نشے میں ہوںاب دو تو جام خالی ہی دو میں نشے میں ہوں

۲

ایک ایک قرط دور میں یوں ہی مجھے بھی دوجام شراب پر نہ کرو میں نشے میں ہوں

۳

مستی سے درہمی ہے مری گفتگو کے بیچجو چاہو تم بھی مجھ کو کہو میں نشے میں ہوں

۴

یا ہاتھوں ہاتھ لو مجھے مانند جام مےیا تھوڑی دور ساتھ چلو میں نشے میں ہوں

۵

معذور ہوں جو پاؤں مرا بے طرح پڑےتم سرگراں تو مجھ سے نہ ہو میں نشے میں ہوں

۶

بھاگی نماز جمعہ تو جاتی نہیں ہے کچھچلتا ہوں میں بھی ٹک تو رہو میں نشے میں ہوں

۷

نازک مزاج آپ قیامت ہیں میرؔ جیجوں شیشہ میرے منہ نہ لگو میں نشے میں ہوں

۲۱۲ / ۵۸۲