کلامِ میرردیف ر
دل گئے آفت آئی جانوں پر
۱
دل گئے آفت آئی جانوں پریہ فسانہ رہا زبانوں پر
۲
عشق میں ہوش و صبر سنتے تھےرکھ گئے ہاتھ سو تو کانوں پر
۳
گرچہ انسان ہیں زمیں سے ولےہیں دماغ ان کے آسمانوں پر
۴
شہر کے شوخ سادہ رو لڑکےظلم کرتے ہیں کیا جوانوں پر
۵
عرش و دل دونوں کا ہے پایہ بلندسیر رہتی ہے ان مکانوں پر
۶
جب سے بازار میں ہے تجھ سی متاعبھیڑ ہی رہتی ہے دکانوں پر
۷
لوگ سر دینے جاتے ہیں کب سےیار کے پاؤں کے نشانوں پر
۸
کجی اوباش کی ہے وہ دربندڈالے پھرتا ہے بند شانوں پر
۹
کوئی بولا نہ قتل میں میرےمہر کی تھی مگر دہانوں پر
۱۰
یاد میں اس کے ساق سیمیں کیدے دے ماروں ہوں ہاتھ رانوں پر
۱۱
تھے زمانے میں خرچی جن کی روپےپھانسا کرتے ہیں ان کو آنوں پر
۱۲
غم و غصہ ہے حصے میں میرےاب معیشت ہے ان ہی کھانوں پر
۱۳
قصے دنیا میں میرؔ بہت سنےنہ رکھو گوش ان فسانوں پر
۱۳۸ / ۵۸۲