کلامِ میرردیف ر

دل دماغ و جگر یہ سب اک بار

۱

دل دماغ و جگر یہ سب اک بارکام آئے فراق میں اے یار

۲

کیوں نہ ہو ضعف غالب اعضا پرمر گئے ہیں قشون کے سردار

۳

گل پژمردہ کا نہیں ممنونہم اسیروں کا گوشۂ دستار

۴

مت نکل گھر سے ہم بھی راضی ہیںدیکھ لیں گے کبھو سر بازار

۵

سینکڑوں حرف ہیں گرہ دل میںپر کہاں پائیے لب اظہار

۶

سیر کر دشت عشق کا گلشنغنچے ہو ہو رہے ہیں سو سو خار

۷

روز محشر ہے رات ہجراں کیایسی ہم زندگی سے ہیں بیزار

۸

بحث نالہ بھی کیجیو بلبلپہلے پیدا تو کر لب گفتار

۹

شکر کر داغ دل کا اے غافلکس کو دیتے ہیں دیدۂ بے دار

۱۰

گو غزل ہو گئی قصیدہ سیعاشقوں کا ہے طول حرف شعار

۱۱

ہر سحر لگ چلی تو ہے تو نسیماے سیہ مست ناز ٹک ہشیار

۱۲

شاخسانے ہزار نکلیں گےجو گیا اس کی زلف کا اک تار

۱۳

واجب القتل اس قدر تو ہوںکہ مجھے دیکھ کر کہے ہے پکار

۱۴

یہ تو آیا نہ سامنے میرےلاؤ میری میاں سپر تلوار

۱۵

آ زیارت کو قبر عاشق پراک طرح کا ہے یاں بھی جوش بہار

۱۶

نکلے ہے میری خاک سے نرگسیعنی اب تک ہے حسرت دیدار

۱۷

میرؔ صاحب زمانہ نازک ہےدونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار

۱۸

سہل سی زندگی پہ کام کے تیںاپنے اوپر نہ کیجیے دشوار

۱۹

چار دن کا ہے مجہلہ یہ سبسب سے رکھیے سلوک ہی ناچار

۲۰

کوئی ایسا گناہ اور نہیںیہ کہ کیجے ستم کسی پر یار

۲۱

واں جہاں خاک کے برابر ہےقدر ہفت آسماں ظلم شعار

۲۲

یہی درخواست پاس دل کی ہےنہیں روزہ نماز کچھ درکار

۲۳

در مسجد پہ حلقہ زن ہو تمکہ رہو بیٹھ خانۂ خمار

۲۴

جی میں آوے سو کیجیو پیارےلیک ہوجو نہ درپئے آزار

۲۵

حاصل دو جہاں ہے یک حرفہو مری جان آگے تم مختار

۱۳۹ / ۵۸۲