کلامِ میرردیف ر
غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کر
۱
غصے سے اٹھ چلے ہو تو دامن کو جھاڑ کرجاتے رہیں گے ہم بھی گریبان پھاڑ کر
۲
دل وہ نگر نہیں کہ پھر آباد ہو سکےپچھتاؤ گے سنو ہو یہ بستی اجاڑ کر
۳
یا رب رہ طلب میں کوئی کب تلک پھرےتسکین دے کہ بیٹھ رہوں پاؤں گاڑ کر
۴
منظور ہو نہ پاس ہمارا تو حیف ہےآئے ہیں آج دور سے ہم تجھ کو تاڑ کر
۵
غالب کہ دیوے قوت دل اس ضعیف کوتنکے کو جو دکھاوے ہے پل میں پہاڑ کر
۶
نکلیں گے کام دل کے کچھ اب اہل ریش سےکچھ ڈھیر کر چکے ہیں یہ آگے اکھاڑ کر
۷
اس فن کے پہلوانوں سے کشتی رہی ہے میرؔبہتوں کو ہم نے زیر کیا ہے پچھاڑ کر
۱۴۰ / ۵۸۲