کلامِ میرردیف ر
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کر
۱
غیروں سے مل چلے تم مست شراب ہو کرغیرت سے رہ گئے ہم یکسو کباب ہو کر
۲
اس روئے آتشیں سے برقع سرک گیا تھاگل بہہ گیا چمن میں خجلت سے آب ہو کر
۳
کل رات مند گئی تھیں بہتوں کی آنکھیں غش سےدیکھا کیا نہ کر تو سرمست خواب ہو کر
۴
پردہ رہے گا کیوں کر خورشید خاوری کانکلے ہے وہ بھی اب بے نقاب ہو کر
۵
یک قطرہ آب میں نے اس دور میں پیا ہےنکلا ہے چشم تر سے وہ خون ناب ہو کر
۶
آ بیٹھتا تھا صوفی ہر صبح میکدے میںشکر خدا کہ نکلا واں سے خراب ہو کر
۷
شرم و حیا کہاں تک ہیں میرؔ کوئی دن کےاب تو ملا کرو تم ٹک بے حجاب ہو کر
۱۴۱ / ۵۸۲