کلامِ میرردیف ر

پشت پا ماری بسکہ دنیا پر

۱

پشت پا ماری بسکہ دنیا پرزخم پڑ پڑ گیا مرے پا پر

۲

ڈوبے اچھلے ہے آفتاب ہنوزکہیں دیکھا تھا تجھ کو دریا پر

۳

گرو مے ہوں آؤ شیخ شہرابر جھوما ہی جاہے صحرا پر

۴

دل پر خوں تو تھا گلابی شرابجی ہی اپنا چلا نہ صہبا پر

۵

یاں جہاں میں کہ شہر گوراں ہےسات پردے ہیں چشم بینا پر

۶

فرصت عیش اپنی یوں گزریکہ مصیبت پڑی تمنا پر

۷

طارم تاک سے لہو ٹپکاسنگ باراں ہوا ہے مینا پر

۸

میرؔ کیا بات اس کے ہونٹوں کیجینا دوبھر ہوا مسیحا پر

۱۴۲ / ۵۸۲