کلامِ میرردیف ر

ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کر

۱

ہم بھی پھرتے ہیں یک حشم لے کردستۂ داغ و فوج غم لے کر

۲

دست کش نالہ پیش رو گریہآہ چلتی ہے یاں علم لے کر

۳

مرگ اک ماندگی کا وقفہ ہےیعنی آگے چلیں گے دم لے کر

۴

اس کے اوپر کہ دل سے تھا نزدیکغم دوری چلے ہیں ہم لے کر

۵

تیری وضع ستم سے اے بے دردایک عالم گیا الم لے کر

۶

بارہا صید گہ سے اس کی گئےداغ یاس آہوئے حرم لے کر

۷

ضعف یاں تک کھنچا کہ صورت گررہ گئے ہاتھ میں قلم لے کر

۸

دل پہ کب اکتفا کرے ہے عشقجائے گا جان بھی یہ غم لے کر

۹

شوق اگر ہے یہی تو اے قاصدہم بھی آتے ہیں اب رقم لے کر

۱۰

میرؔ صاحب ہی چوکے اے بد عہدورنہ دینا تھا دل قسم لے کر

۱۴۳ / ۵۸۲