کلامِ میرردیف س

امیروں تک رسائی ہو چکی بس

۱

امیروں تک رسائی ہو چکی بسمری بخت آزمائی ہو چکی بس

۲

بہار اب کے بھی جو گزری قفس میںتو پھر اپنی رہائی ہو چکی بس

۳

کہاں تک اس سے قصہ قضیہ ہر شببہت باہم لڑائی ہو چکی بس

۴

نہ آیا وہ مرے جاتے جہاں سےیہیں تک آشنائی ہو چکی بس

۵

لگا ہے حوصلہ بھی کرنے تنگیغموں کی اب سمائی ہو چکی بس

۶

برابر خاک کے تو کر دکھایافلک بس بے ادائی ہو چکی بس

۷

دنی کے پاس کچھ رہتی ہے دولتہمارے ہاتھ آئی ہو چکی بس

۸

دکھا اس بت کو پھر بھی یا خدایاتری قدرت نمائی ہو چکی بس

۹

شرر کی سی ہے چشمک فرصت عمرجہاں دے ٹک دکھائی ہو چکی بس

۱۰

گلے میں گیروی کفنی ہے اب میرؔتمہاری میرزائی ہو چکی بس

۱۴۴ / ۵۸۲