کلامِ میرردیف ش

کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہش

۱

کیا کہیے کیا رکھیں ہیں ہم تجھ سے یار خواہشیک جان و صد تمنا، یک دل ہزار خواہش

۲

لے ہاتھ میں قفس ٹک صیاد چل چمن تکمدت سے ہے ہمیں بھی سیر بہار خواہش

۳

نے کچھ گنہ ہے دل کا نے جرم چشم اس میںرکھتی ہے ہم کو اتنا بے اختیار خواہش

۴

حالانکہ عمر ساری مایوس گزری تس پرکیا کیا رکھیں ہیں اس کے امیدوار خواہش

۵

غیرت سے دوستی کی کس کس سے ہو جے دشمنرکھتا ہے یاری ہی کی سارا دیار خواہش

۶

ہم مہر و رز کیوں کر خالی ہوں آرزو سےشیوہ یہی تمنا فن و شعار خواہش

۷

اٹھتی ہے موج ہر یک آغوش ہی کی صورتدریا کو ہے یہ کس کا بوس و کنار خواہش

۸

صد رنگ جلوہ گر ہے ہر جادہ غیرت گلعاشق کی ایک پاوے کیوں کر قرار خواہش

۹

یک بار بر نہ آئے اس سے امید دل کیاظہار کرتے کب تک یوں بار بار خواہش

۱۰

کرتے ہیں سب تمنا پر میرؔ جی نہ اتنیرکھے گی مار تم کو پایان کار خواہش

۱۴۵ / ۵۸۲