کلامِ میرردیف ت
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہت
۱
زخم جھیلے داغ بھی کھائے بہتدل لگا کر ہم تو پچھتائے بہت
۲
جب نہ تب جاگہ سے تم جایا کیےہم تو اپنی اور سے آئے بہت
۳
دیر سے سوئے حرم آیا نہ ٹکہم مزاج اپنا ادھر لائے بہت
۴
پھول گل شمس و قمر سارے ہی تھےپر ہمیں ان میں تمہیں بھائے بہت
۵
گر بکا اس شور سے شب کو ہے توروویں گے سونے کو ہم سایے بہت
۶
وہ جو نکلا صبح جیسے آفتابرشک سے گل پھول مرجھائے بہت
۷
میرؔ سے پوچھا جو میں عاشق ہو تمہو کے کچھ چپکے سے شرمائے بہت
۱۲۲ / ۵۸۲