کلامِ میرردیف و

دل صاف ہو تو جلوہ گہہ یار کیوں نہ ہو

۱

دل صاف ہو تو جلوہ گہہ یار کیوں نہ ہوآئینہ ہو تو قابل دیدار کیوں نہ ہو

۲

عالم تمام اس کا گرفتار کیوں نہ ہووہ ناز پیشہ ایک ہے عیار کیوں نہ ہو

۳

مستغنیانہ تو جو کرے پہلے ہی سلوکعاشق کو فکر عاقبت کار کیوں نہ ہو

۴

رحمت غضب میں نسبت برق و سحاب ہےجس کو شعور ہو تو گنہ گار کیوں نہ ہو

۵

دشمن تو اک طرف کہ سبب رشک کا ہے یاںدر کا شگاف و رخنۂ دیوار کیوں نہ ہو

۶

آیات حق ہیں سارے یہ ذرات کائناتانکار تجھ کو ہووے سو اقرار کیوں نہ ہو

۷

ہر دم کی تازہ مرگ جدائی سے تنگ ہوںہونا جو کچھ ہے آہ سو یک بار کیوں نہ ہو

۸

موئے سفید ہم کو کہے ہے کہ غافلاںاب صبح ہونے آئی ہے بیدار کیوں نہ ہو

۹

نزدیک اپنے ہم نے تو سب کر رکھا ہے سہلپھر میرؔ اس میں مردن دشوار کیوں نہ ہو

۲۱۸ / ۵۸۲