کلامِ میرردیف و

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو

۱

شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کروجنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو

۲

فرش مستاں کرو سجادۂ بے تہ کے تئیںمے کی تعظیم کرو شیشے کا اکرام کرو

۳

دامن پاک کو آلودہ رکھو بادے سےآپ کو مغبچوں کے قابل دشنام کرو

۴

نیک نامی و تقاوت کو دعا جلد کہودین و دل پیش کش سادۂ خود کام کرو

۵

ننگ و ناموس سے اب گزرو جوانوں کی طرحپر فشانی کرو اور ساقی سے ابرام کرو

۶

خوب اگر جرعہ مے نوش نہیں کر سکتےخاطر جمع مے آشام سے یہ کام کرو

۷

اٹھ کھڑے ہو جو جھکے گردن مینائے شرابخدمت بادہ گساراں ہی سرانجام کرو

۸

مطرب آ کر جو کرے چنگ نوازی تو تمپیرہن مستوں کی تقلید سے انعام کرو

۹

خنکی اتنی بھی تو لازم نہیں اس موسم میںپاس جوش گل و دل گرمی ایام کرو

۱۰

سایۂ گل میں لب جو پہ گلابی رکھوہاتھ میں جام کو لو آپ کو بدنام کرو

۱۱

آہ تا چند رہو خانقہ و مسجد میںایک تو صبح گلستاں میں بھی شام کرو

۱۲

رات تو ساری گئی سنتے پریشاں گوئیمیرؔ جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو

۲۱۹ / ۵۸۲