کلامِ میرردیف و
شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کرو
شیخ جی آؤ مصلیٰ گرو جام کروجنس تقویٰ کے تئیں صرف مئے خام کرو
فرش مستاں کرو سجادۂ بے تہ کے تئیںمے کی تعظیم کرو شیشے کا اکرام کرو
دامن پاک کو آلودہ رکھو بادے سےآپ کو مغبچوں کے قابل دشنام کرو
نیک نامی و تقاوت کو دعا جلد کہودین و دل پیش کش سادۂ خود کام کرو
ننگ و ناموس سے اب گزرو جوانوں کی طرحپر فشانی کرو اور ساقی سے ابرام کرو
خوب اگر جرعہ مے نوش نہیں کر سکتےخاطر جمع مے آشام سے یہ کام کرو
اٹھ کھڑے ہو جو جھکے گردن مینائے شرابخدمت بادہ گساراں ہی سرانجام کرو
مطرب آ کر جو کرے چنگ نوازی تو تمپیرہن مستوں کی تقلید سے انعام کرو
خنکی اتنی بھی تو لازم نہیں اس موسم میںپاس جوش گل و دل گرمی ایام کرو
سایۂ گل میں لب جو پہ گلابی رکھوہاتھ میں جام کو لو آپ کو بدنام کرو
آہ تا چند رہو خانقہ و مسجد میںایک تو صبح گلستاں میں بھی شام کرو
رات تو ساری گئی سنتے پریشاں گوئیمیرؔ جی کوئی گھڑی تم بھی تو آرام کرو
۲۱۹ / ۵۸۲