کلامِ میرردیف و
فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کو
فلک نے گر کیا رخصت مجھے سیر بیاباں کونکالا سر سے میرے جائے مو خار مغیلاں کو
وہ ظالم بھی تو سمجھے کہہ رکھا ہے ہم نے یاراں کوکہ گورستان سے گاڑیں جدا ہم اہل ہجراں کو
نہیں یہ بید مجنوں گردش گردون گرداں نےبنایا ہے شجر کیا جانیے کس مو پریشاں کو
ہوئے تھے جیسے مر جاتے پر اب تو سخت حسرت ہےکیا دشوار نادانی سے ہم نے کار آساں کو
کہیں نسل آدمی کی اٹھ نہ جاوے اس زمانے میںکہ موتی آب حیواں جانتے ہیں آب انساں کو
تجھے گر چشم عبرت ہے تو آندھی اور بگولے سےتماشا کر غبار افشانی خاک عزیزاں کو
لباس مرد میداں جوہر ذاتی کفایت ہےنہیں پروئے پوشش معرکے میں تیغ عریاں کو
ہوائے ابر میں گرمی نہیں جو تو نہ ہو ساقیدم افسردہ کر دے منجمد رشحات باراں کو
جلیں ہیں کب کی مژگاں آنسوؤں کی گرم جوشی سےاس آب چشم کی جوشش نے آتش دی نیستاں کو
وہ کافر عشق کا ہے دل کہ میری بھی رگ جاں تکسدا زنار ہی تسبیح ہے اس نا مسلماں کو
غرور ناز سے آنکھیں نہ کھولیں اس جفا جو نےملا پاؤں تلے جب تک نہ چشم صد غزالاں کو
نہ سی چشم طمع خوان فلک پر خام دستی سےکہ جام خون دے ہے ہر سحر یہ اپنے مہماں کو
زبس صرف جنوں میرے ہوا آہن عجب مت کرنہ ہو گر حلقۂ در خانۂ زنجیر سازاں کو
بنے نا واقف شادی اگر ہم بزم عشرت میںدہان زخم دل سمجھے جو دیکھا روئے خنداں کو
نہیں ریگ رواں مجنوں کے دل کی بے قراری نےکیا ہے مضطرب ہر ذرۂ گرد بیاباں کو
کسی کے واسطے رسوائے عالم ہو پہ جی میں رکھکہ مارا جائے جو ظاہر کرے اس راز پنہاں کو
گری پڑتی ہے بجلی ہی تبھی سے خرمن گل پرٹک اک ہنس میرے رونے پر کہ دیکھے تیرے دنداں کو
غرور ناز قاتل کو لیے جا ہے کوئی پوچھےچلا تو سونپ کر کس کے تئیں اس صید بے جاں کو
وہ تخم سوختہ تھے ہم کہ سر سبزی نہ کی حاصلملایا خاک میں دانہ نمط حسرت سے دہقاں کو
ہوا ہوں غنچۂ پژمردہ آخر فصل کا تجھ بننہ دے برباد حسرت کشتۂ سر در گریباں کو
غم و اندوہ و بیتابی الم بے طاقتی حرماںکہوں اے ہم نشیں تا چند غم ہاے فراواں کو
گل و سرو و سمن گر جائیں گے مت سیر گلشن کرملا مت خاک میں ان باغ کے رعنا جواناں کو
بہت روئے جو ہم یہ آستیں رکھ منہ پہ اے بجلینہ چشم کم سے دیکھ اس یادگار چشم گریاں کو
مزاج اس وقت ہے اک مطلع تازہ پہ کچھ مائلکہ بے فکر سخن بنتی نہیں ہرگز سخنداں کو
۲۲۰ / ۵۸۲