کلامِ میرردیف و

موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرو

۱

موسم گل آیا ہے یارو کچھ میری تدبیر کرویعنی سایۂ سر و گل میں اب مجھ کو زنجیر کرو

۲

پیش سعایت کیا جائے ہے حق ہے میری طرف سو ہےمیں تو چپ بیٹھا ہوں یکسو گر کوئی تقریر کرو

۳

کان لگا رہتا ہے غیر اس شوخ کماں ابرو کے بہتاس تو گناہ عظیم پہ یارو ناک میں اس کی تیر کرو

۴

پھیر دئیے ہیں دل لوگوں کے مالک نے کچھ میری طرفتم بھی ٹک اے آہ و نالہ قلبوں میں تاثیر کرو

۵

آگے ہی آزردہ ہیں ہم دل ہیں شکستہ ہمارے سبحرف رنجش بیچ میں لا کر اور نہ اب دلگیر کرو

۶

شعر کیے موزوں تو ایسے جن سے خوش ہیں صاحب دلروویں کڑھیں جو یاد کریں اب ایسا تم کچھ میرؔ کرو

۲۲۱ / ۵۸۲