کلامِ میرردیف و
ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تو
ویسا کہاں ہے ہم سے جیسا کہ آگے تھا تواوروں سے مل کے پیارے کچھ اور ہو گیا تو
چالیں تمام بے ڈھب باتیں فریب ہیں سبحاصل کہ اے شکر لب اب وہ نہیں رہا تو
جاتے نہیں اٹھائے یہ شور ہر سحر کےیا اب چمن میں بلبل ہم ہی رہیں گے یا تو
آ ابر ایک دو دم آپس میں رکھیں صحبتکڑھنے کو ہوں میں آندھی رونے کو ہے بلا تو
تقریب پر بھی تو تو پہلو تہی کرے ہےدس بار عید آئی کب کب گلے ملا تو
تیرے دہن سے اس کو نسبت ہو کچھ تو کہیےگل گو کرے ہے دعویٰ خاطر میں کچھ نہ لا تو
دل کیونکے راست آوے دعواے آشنائیدریائے حسن وہ مہ کشتی بکف گدا تو
ہر فرد یاس ابھی سے دفتر ہے تجھ گلے کاہے قہر جب کہ ہوگا حرفوں سے آشنا تو
عالم ہے شوق کشتۂ خلقت ہے تیری رفتہجانوں کی آرزو تو آنکھوں کا مدعا تو
منہ کریے جس طرف کو سو ہی تری طرف ہےپر کچھ نہیں ہے پیدا کیدھر ہے اے خدا تو
آتی بہ خود نہیں ہے باد بہار اب تکدو گام تھا چمن میں ٹک ناز سے چلا تو
کم میری اور آنا کم آنکھ کا ملاناکرنے سے یہ ادائیں ہے مدعا کہ جا تو
گفت و شنود اکثر میرے ترے رہے ہےظالم معاف رکھیو میرا کہا سنا تو
کہہ سانجھ کے موئے کو اے میرؔ روئیں کب تکجیسے چراغ مفلس اک دم میں جل بجھا تو
۲۲۲ / ۵۸۲