کلامِ میرردیف و
کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو
۱
کہتے ہو اتحاد ہے ہم کوہاں کہو اعتماد ہے ہم کو
۲
شوق ہی شوق ہے نہیں معلوماس سے کیا دل نہاد ہے ہم کو
۳
خط سے نکلے ہے بے وفائی حسناس قدر تو سواد ہے ہم کو
۴
آہ کس ڈھب سے روئیے کم کمشوق حد سے زیاد ہے ہم کو
۵
شیخ و پیر مغاں کی خدمت میںدل سے اک اعتقاد ہے ہم کو
۶
سادگی دیکھ عشق میں اس کےخواہش جان شاد ہے ہم کو
۷
بد گمانی ہے جس سے تس سے آہقصد شور و فساد ہے ہم کو
۸
دوستی ایک سے بھی تجھ کو نہیںاور سب سے عناد ہے ہم کو
۹
نامرادانہ زیست کرتا تھامیرؔ کا طور یاد ہے ہم کو
۲۲۳ / ۵۸۲