کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہے
تحیات اے عزیزاں بابت آل پیمبرؐ ہےدرود اے دوستاں شائستۂ اولاد حیدر ہےنیاز اے حق پرستاں لائق شبیر و شبر ہےسلام اے مومناں ایسے جو ہوں ہر لحظہ ان پر ہے
محمدؐ جس کا نانا اس کو بیکس کرکے سب ماریںپدر ساقی کوثر جس کا اس کو تشنہ لب ماریںسبب جو بخشش عالم کا اس کو بے سبب ماریںحرم کا جو ہے عزت دار سو محتاج چادر ہے
ورق الٹا فلک نے یوں کہ دم میں مٹ گیا سب گھرچنانچہ اب سخن ہر پردگی کے ہے یہی لب پرعبارت گھر جنھوں سے تھا سو یارب کیا ہوئے یکسرنہ سرور ہے نہ قاسم ہے نہ اصغر ہے نہ اکبر ہے
شہ ہر دوجہاں زیرنگیں معروف اور نامیامام عارف و عامی نبیؐ کے دین کا حامیسر اس صبح سعادت کا سناں پر لے چلے شامیکہاں حیدر کہ جو دیکھے وہی یہ نازپرور ہے
ستم جو دیکھتا تھا ہر زماں ان جورکیشاں سےکہے تھا عابد بیکس غم و اندوہ پنہاں سےکہوں امیدگاہا تجھ سے کیا حال پریشاں سےنگہ میں یاس ہر دم ہے لبوں پر شیون اکثر ہے
بہت دلجوئی امت میں تھا صرف توانائیسو وہ امت ہمارے آج کے دن خوب کام آئیکیا گھر بار غارت مار ڈالے بیٹے اور بھائیخرابی آل کی دیکھے محمدؐ آہ کیدھر ہے
جگر ٹکڑے ہوا ہے کب تلک یہ سختیاں دیکھیںنکلتی آنکھ سے یاقوت کی سی تختیاں دیکھیںتس اوپر شام کے لوگوں کی یہ بدبختیاں دیکھیںبلا لے پاس اپنے جلد ہم کو بھی تو بہتر ہے
کوئی کہتی تھی اے شہ یہ ستم کیا ہم پہ ہوتا ہےنہیں کوئی پونچھتا آنسو گروہ اک غم سے روتا ہےتو کن نیندوں سحر سے قتل گہ میں آج سوتا ہےہمارا شام کی جانب کو لے جانا مقرر ہے
مخاطب کرکے زہرا کو کوئی یوں غم سناتی تھیکہ تو اے مادر مشفق سبھوں کے ناز اٹھاتی تھیبگڑتا ٹک کسی کا حال تو ووہیں بناتی تھیتوجہ آج کیدھر ہے نہایت حال ابتر ہے
سروں کا تاج تھا جو شہ ہوا ہے خاک سے یکساںترا جو خانۂ دولت تھا سو یکسر ہوا ویراںپھریں ہیں سربرہنہ عورتیں جنگل میں سرگرداںجدھر جاتے ہیں مضطر ہو ادھر دشمن کا لشکر ہے
عجائب درہمی آئی ہے اس جمع پریشاں میںقیامت کا سا ہنگامہ ہے برپا اک بیاباں میںتری اس چین سے کیونکر لگی ہے آنکھ میداں میںبلا ہے فتنہ ہے آشوب ہے اک شور ہے شر ہے
علی کی اور روے حرف جو ہوتا تھا نسواں کاجگر پانی ہوا جاتا تھا سن کر انس اور جاں کاکہ کہتی تھیں ہوا کیا دست تیرے لطف و احساں کاسروں پر پنجۂ خورشید ہے جو سایہ گستر ہے
غبار دل نہ ہو کیونکر بلند آفت رسیدوں کانظر آتا نہیں زیر زمیں ہونا شہیدوں کاکھلے گا کس طرح دل وائے ہم محنت کشیدوں کازمیں سے آسماں تک دیکھتے ہیں تو مکدر ہے
جہاں تاریک ہے بیٹے بھتیجے مر گئے سارےرفیق ایک ایک گن کر دشمنوں نے جان سے مارےجفائیں سہتے سہتے بازماندے شاہ کے ہارےچراغ اک نیم کشتہ سا ہے باقی سو بھی مضطر ہے
کبھی لیتا ہے چھاتی کوٹ منھ کر کر مدینے کوکبھو دل تنگ ہوکر نوچ لے ہے زور سینے کورہے کیونکر نہ وہ ہموار دل کے لوہو پینے کونہ جس کا کوئی ہمدم ہے نہ یاری گر نہ یاور ہے
نہیں ان کلفتوں کی تاب لائی جاتی اب ہم سےلپٹ سی ہونٹ کو لگنے لگی ہے گرمی دم سےدرونے جل گئے شاید ہمارے آتش غم سےٹپکتا آنکھ سے آنسو جو ہے گویا کہ اخگر ہے
کسے آتا ہے باور اب جو کہیے شہ یہ ایسا تھاترا اقبال جیسا چاہیے کل تک تو ویسا تھاسحر کو کچھ نہ تھا گویا تجھے دن آج کیسا تھانہ قدر و منزلت وہ ہے نہ وہ سر ہے نہ افسر ہے
نہ مانع جو ہوئے آنے کے تیرے یاں ہوا خواہاںنہ روکا جو مزاحم ہو کسو نے کھینچ کر داماںمگر آگہ نہ تھا کوئی کہ ہر ہر گام اوپر یاںسناں ہے تیر ہے تلوار ہے برچھی ہے خنجر ہے
قیامت سختیاں دیکھیں ہوا احوال دل برہمتوقع رحم کی کس سے رکھیں برگشتہ ہے عالمنہیں کرتا مصیبت پر ہماری کوئی مژگاں نممروت یاں نہیں ہے رسم دل ہر اک کا پتھر ہے
موئے پر وارثوں کے رسم تھی آگے ترحم کینہ استخفاف و استہزا و تعریض و تبسم کیدلوں میں لہر سی آتی ہے فریاد و تظلم کیسو عادل ہی نہ یاں کوئی نہ حاکم ہے نہ داور ہے
گئے یوں دل کو خاکی کرکے وے سب ظلم کے مارےبلا کے مبتلا دشت غم و کربت کے آوارےچلے جاتے تھے رہ اور کہتے جاتے تھے یہی سارےکہ کیا چارہ ہے بے چاروں کا گریوں ہی مقدر ہے
جو کچھ اے میرؔ آگے چل کے پیش آیا انھیں مت کہہکہاں تک نوحہ و زاری کرے گا ہرگہ وبے گہیہیں سے رنگ تیرے دل کا پیدا ہے بس اب چپ رہکہ جو آنسو گرے ہے آنکھ سے یاقوت احمر ہے
۴۷۳ / ۵۸۲