کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مخمس در مدح حضرت علیؓ
ہراس روز محشر کیا محمد مصطفےٰؐ بس ہےکرم خصلت وفاسیرت علی مرتضےٰ بس ہےشفیع جرم سوز سینۂ خیرالنسا بس ہےنہ ٹکڑے دل کے کر مسموم امام مجتبےٰ بس ہےلہو مت رو شہید تشنہ کام کربلا بس ہے
رکھے کوئی توقع تو رکھے آل پیمبر سےطلب ہووے کسی کو کچھ تو ہو اولاد حیدر سےامانت چاہنا پھر لطف ہے یاران دیگر سےدل اپنا جمع کر دور قمر کے شور اور شر سےبہت ہے گرچہ ہنگامہ ولے زین العبا بس ہے
ولا باقر کی فرض عین ہے حیدرپرستی میںجپا کر نام کو اس کے تو ہشیاری و مستی میںغرض رہ محو اس کا دشت میں ہو تو کہ بستی میںعجب ہے نونہال اک سایہ دار اس باغ ہستی میںکرم اس کا پئے ہر شخص بے برگ و نوا بس ہے
محبت چاہیے صادق جناب پاک جعفر میںاسی کا شوق دل میں ہو اسی کا شور ہو سر میںوہی یاں بھی نشاں ہے تھا جو کچھ ساقی کوثر میںعنایت کی اسی سے چشم رکھ آشوب محشر میںبلا صد رنگ ہووے کیوں نہ ایک اس کی ولا بس ہے
رکھے کاظم کو جو سر پر غم و غصہ سے کیا اس کونہ دیکھے یہ امام دیں بلا میں مبتلا اس کوبیک چشمک زدن حاصل ہو ایسا مرتبہ اس کوکہ رکھے کفش جس کے سر پہ دیکھو بادشا اس کوتوجہ گونہ اے مولا پئے ہر مدعا بس ہے
جسے اے مجلس آرایان دیں بہرہ ہے ایماں سےاسے اک بندگی خاص ہے شاہ خراساں سےنگہ کی چشم سے آتی ہے خلق ایران و توراں سےگذر جاتے ہیں اس کے نام پر جنس خوش جاں سےجو سودا اس سے بن جائے تو ہو راضی رضا بس ہے
جو وہ دن ہو کہ نکلے آفتاب اس روز پچھم سےموکل درمیاں لاویں سخن جنت جہنم سےکریں پرسش بد و نیک عمل کی خلق عالم سےمخاطب ہم کسو سے ہوں نہ یارب نے کوئی ہم سےتقی متقی ہم کو امام اتقیا بس ہے
تقی پاک کا آکر علم جس وقت برپا ہوالٰہی ہم سیہ کاروں کی اس کے سائے میں جا ہووہ حامی لطف سے ہو تو کچھ اپنا کام اچھا ہووگرنہ زشتی اعمال سے کیا جانیے کیا ہوووں ہی ہووے تو بس کیا اور یوں ہووے تو کیا بس ہے
نہ ہو لشکرکشی سے غم کی اے دل اس قدر درہمکرے گا عسکری انبوہ اس اندوہ کا برہمعدو مجروح ہے اس کا احبا کا ہے وہ مرہمرہیں گے ناامید رستگاری اس سے کیونکر ہموسیلہ ہم گنہگاروں کا وہ روز جزا بس ہے
اگرچہ اشک آنکھوں میں لبوں پر آہ رہتے ہیںولے مستغنیانہ ہرگہ و بے گاہ رہتے ہیںکبھو ہیں شہر میں جاکر کبھو درگاہ رہتے ہیںکرم پر مہدی ہادی کے ہم گمراہ رہتے ہیںہمیں اس وادی پرخوف میں وہ رہنما بس ہے
کہاں تک بت پرستی میں جفا و جور کا سہناکہاں تک آنکھ سے رخسار پر ہر دم لہو بہناکہن سالی میں کس کا چاہیے ہے ہم کو کچھ کہنادیے قشقہ صنم خانے میں کب تک روز و شب رہناگیا وقت ہوس کعبہ کو چلیے اب خدا بس ہے
نہیں مشتاق ہم کچھ مال کے اسباب کے زر کےنہ اچھے فرش کے طالب نہ پاکیزہ کسو گھر کےتجھے درویش سب کہتے ہیں لوگ ایدھر کے اودھر کےہمارا حشر ہووے مر گئے پر ساتھ حیدر کےیہی کہہ میرؔ تو بھی حق میں اپنے یہ دعا بس ہے
۵۶۲ / ۵۸۲