کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

مخمس در مدح حضرت علیؓ

۱

ہادی علی رفیق علی رہنما علییاور علی ممدّ علی آشنا علیمرشد علی کفیل علی پیشوا علیمقصد علی مراد علی مدعا علیجو کچھ کہو سو اپنے تو ہاں مرتضےٰ علی

۲

نور یقیں علی سے ہمیں اقتباس ہےایمان کی علی کی ولا پر اساس ہےیوم التناد میں بھی علی ہی کی آس ہےبے گاہ و گاہ ناد علی اپنے پاس ہےقبلہ علی امام علی مقتدا علی

۳

دیوانگان شوق کا مت پوچھو معتقدفہم اس کا تب ہو روح قدس جب کرے مددظاہر اس ایک شان سے شانیں ہیں لاتعدگہ احمد اس کو کہتے ہیں گاہے اسے احدشایان حمد و قابل صل علیٰ علی

۴

نے شہ سے کچھ غرض ہے ہمیں نے وزیر سےنے اعتقاد شیخ سے نے کچھ فقیر سےرکھتے نہیں ہیں کام صغیر و کبیر سےہے لاگ اپنے جی کو اسی اک امیر سےمولا علی وکیل علی بادشا علی

۵

پہنچے ہے تیرے ہاتھ تلک کب کسو کا دستکیا سمجھے شیخ حال کو فطرت ہے اس کی پستہوں جوں نصیری ساقی کوثر کا محو و مستمسکن علی نگر ہے مرا میں علی پرستپیغمبر اس جگہ کا علی ہے خدا علی

۶

شیوہ اگرچہ اپنا نہ یہ وعظ و پند ہےپر اس کو سن رکھ اے کہ تو کچھ دردمند ہےکیا ہے جو عرصہ تنگ ہوا کام بند ہےدل جمع کر کہ ہمت مولیٰ بلند ہےیعنی کرم شعار ہے مشکل کشا علی

۷

اپنی بساط تو ہے علی ہے وہی علیمکس طور جیتے رہتے نہ ہوتا جو وہ کریمدیکھیں ہیں اس کی اور جو ہم ہوتے ہیں سقیمیاں کا وہی ہے شافی و کافی وہی حکیمعارض ہو کوئی درد ہمیں ہے دوا علی

۸

ہے دوستی علی کی تمناے کائناتبے لطف اس بغیر ہے کیا موت کیا حیاتیعنی کہ ذات پاک ہے اس کی خدا کی ذاتکیا ان موالیوں کے تئیں ہے غم نجاتمرتے ہوئے جنھوں کے دلوں میں رہا علی

۹

یہ کس طرح سے راز کہوں میں زبان سےحالات اس روش کے پرے ہیں بیان سےیک شب نبیؐ جو نکلے زمان و مکان سےذات مبارک آئی نظر اور شان سےتھا بزم لامکاں میں بھی رونق فزا علی

۱۰

خواہش مدد کی غیر سے یہ ہے خیال خامکرتا ہے کب قبول اسے عاقل تمامکافی ہے دوجہان میں مولا کا میرے ناملاریب اس پہ آتش دوزخ ہوئی حراماک بار بھی زبان سے جن نے کہا علی

۱۱

سر تا قدم ثبات دل و جملگی ادبصورت پکڑ کے سامنے آیا تھا لطف ربظاہر ہوئے ظہور جہاں میں عجب عجبمحراب میں نہ گرم بکا تھا کدام شبہنستا رہا نہ کون سے روز غزا علی

۱۲

عنتر کو نار خشم نے اس کی جلا دیااژدر کو چیر ایک ہی دم میں کھپا دیاخورشید کو نکال دوبارہ دکھا دیاہنگامہ کفر و شرک کا آکر مٹا دیاتھا جانشین ختم رسلؐ کا بجا علی

۱۳

گو چشم دل کھلے نہ کسی روسیاہ کیاس تک مجال کب ہے کسو کی نگاہ کیاللہ ری بلندی تری قدر و جاہ کیمرمر کے جبرئیل نے درباں سے راہ کیشاہا ملک سپاہ جہان صفا علی

۱۴

دشمن کو آگہی ہے کماینبغی کہاںقدرت سے اس کی قدرت حق ہوتی ہے عیاںزورآوری مزاج میں آوے تو الاماںکچھ بھی نہیں ہے پھر یہ جو سب کچھ ہے درمیاںارض و سما کے دیوے قلابے ملا علی

۱۵

دی تیغ ایسی کس کو کہ جیسی ہو ذوالفقارمرکب کہاں ہیں اس کے سے ویسے کہاں سوارگذرے ہیں گرچہ مردم خوب آگے بھی ہزارپر یہ شرف خدا کی طرف سے ہے یہ وقارخلقت تو دیکھ کعبے میں پیدا ہوا علی

۱۶

تھی حق کے ہاں سے احمد مرسلؐ کو سروریکہتی تھی ساری خلق خدا کی اسے ولینسبت بغیر ہوتے ہیں یہ اتحاد بھیلطف و سخا و ہمت و حلم و حیا نبیؐجود و سخا و جرأت و مہر و وفا علی

۱۷

نزدیک سب کے اس کو ہے درجہ قبول کاایک عندیہ ہے سید و شیخ و مغول کاکب معتبر ہے حرف کسو بوالفضول کاباطن علی ہے ظاہر خوب رسولؐ کاخاک اس کے فرق پر جو کہے تھا جدا علی

۱۸

ہر فرد کی زباں پہ علی کی ہے گفتگوہر شخص کے تئیں ہے علی ہی کی جستجوعالم کو ہے علی کی تولا سے آرزواپنا ہی کچھ علی کی طرف کو نہیں ہے رومقصود خلق و مطلب ارض و سما علی

۱۹

اک شوق ہے علی کا مرے قلب میں نہاںشاید یہی نجات کا باعث بھی ہو وہاںاب زیر لب ہے زیست میں جو میرؔ ہر زماںاس وقت میں کہ جان ہو یک دم کی میہماںامید ہے کہ یوں ہی لبوں پر ہو یا علی

۵۶۳ / ۵۸۲