کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

مخمس در مدح حضرت علیؓ

۱

اے نائب مصاحب ذی القوۃ المتیںوے دست زور خلوتی قدرت آستیںچاہے تو ایک کردے ابھی آسماں زمیںٹھوکر لگے تری تو اڑے کوہ آہنیںپایا نہ جائے جیسے پر کاہ پھر کہیں

۲

تو ہے کہ تیری قدر نہ آئے بیان میںقدرت تری نہ گذرے کسو کے گمان میںشانیں ہزار قسم ہیں اک تیری شان میںشہرت ہے تیرے زور کی دونوں جہان میںنکلا نہ شہربند عدم سے ترا قریں

۳

غیب و شہود دونوں میں مشہود ہے تو توہستی ہماری وہم ہے موجود ہے تو توحاصل کہ دوجہان کا مقصود ہے تو تومسجود تجھ کو جانے ہیں معبود ہے تو توناجی ہیں وے ہی لوگ جنھوں کا ہے یہ یقیں

۴

احوال خوش انھوں کا جنھیں تجھ سے ہے ولااعدا تو آسماں نے دیے خاک میں ملاآئینہ ہے کہ دین کو تجھ سے ہوئی جلابرپا وہی رہے گا جو تجھ تک ہے سلسلہیاروں نے جتنی رسمیں بٹھائیں تھیں اٹھ چلیں

۵

فتنے کو تیرے عہد میں سوتے گذر گئیآشوب کی خطر سے ترے سدھ بسر گئیآفت کہاں کہ کب کی کنارہ بھی کر گئیآوازہ تیرا سن کے بلا جیسے مر گئییوں مٹ گئے فساد کہ مذکور بھی نہیں

۶

داور ہوا جو تو تو ملی بیکسوں کی دادتلوار مارنے سے ترے مٹ گئے فساداٹھے نہ گرد زندقہ و کفر پر عنادزنار ٹوٹے مہرے جلے بت گئے بہ بادبرہم ہوئے گھڑی میں ہزاروں برس کے دیں

۷

ہنگامے گرم یاروں کے سب سرد ہوگئےچہرے منافقوں کے ووہیں زرد ہوگئےسر در نقاب خاک بڑے مرد ہوگئےجن سے تھا پر غبار جہاں گرد ہوگئےگلوں میں بکریوں کے چھٹے شیر خشمگیں

۸

بھاگے پھرے پلنگ نمر ہانپنے لگےروکش جو ہونے کو تھے سو منھ ڈھانپنے لگےرستم ہو بے حواس زمیں ناپنے لگےہلنے لگے پہاڑ فلک کانپنے لگےرکھا گیا جو پیٹھ پہ مرکب کے تیرے زیں

۹

تلوار تیری برق تھی آنکھیں جھپک گئیںگھوڑوں کی باگیں ہاتھ سے سب کے اچک گئیںبھاگیں جو اضطرار سے فوجیں بہک گئیںلاشوں کی سیر کرتے ہوئے آنکھیں تھک گئیںلوہو کی ہر چہار طرف ندیاں بہیں

۱۰

نعرہ کیا ہے تو جو کبھو ہاتھ جھاڑ کرنکلا ہے پردہ گوش فلک کا بھی پھاڑ کرقوت جو تونے کی ہے کبھو پاؤں گاڑ کرکوہ گراں کو پھینک دیا ہے اکھاڑ کرپہنچا ہے ملک قدس تلک شور آفریں

۱۱

رکھتا ہے پائمال حوادث یہ آسماںجاگہ نہیں رہی کہ کریں داد جا کے واںہو دستگیر لطف ترا تو ملے اماںتیری طرف نہ آویں تو پھر جاویں ہم کہاںاے عرش تخت دادگر لامکاں مکیں

۱۲

تو ہے کہ تجھ کو کہتے ہیں حلال مشکلاتتو ہے کہ حلقہ زن ہے ترے در پہ کائناتتو ہے کہ تجھ سے دید میں آئے عجائباتاحسنت تیری قدرت و رحمت ترا ثباتآگے سے تیرے سینکڑوں بھیڑیں سرک گئیں

۱۳

قدغن ہوا جو رفع کا بدعت کی ایک بارپردوں میں مطربوں نے رکھے دف طمانچے مارنغمہ یہ سن کے یاروں نے چھیڑا کبھو نہ تارنالہ ہوا نہ بلبل طنبور سے دوچارآواز نے کی بند ہوئی ہوگئی حزیں

۱۴

تردامنوں کے دیکھے تو لب خشک ہوگئےاحوال میکدہ پہ بہت ابر رو گئےمعتاد مے جنھوں کی تھی سب جان کھو گئےمخمور کھینچ کھینچ کے خمیازہ سو گئےکیا کیا خرابیاں نہ خرابات پر رہیں

۱۵

لا شکل اس کی دل میں وہی مصطفےٰ کو دیکھاس رخ کا کر تصور نور خدا کو دیکھرنگینی جمالت شاہ ولا کو دیکھنرگس نے غش کیا تھا کہیں اس ادا کو دیکھگلشن میں دلبروں کی نہ پھر انکھڑیاں ملیں

۱۶

عاجزنوازی تیری سے ہو مشت خاک زربرسے گدا پہ ابر کرم سے ترے گہرجور فلک نے سیر کیا جی سے رحم کرمہماں ترے سماط پہ ہے خلق ہر سحرحاتم یک آشمال ہے یاں معن ریزہ چیں

۱۷

جس دل کو ہو نہ شوق ترا ہوجیو گدازجس چشم کو نہ میل ہو تیرا نہ ہوجو بازجو سر ترا خیال رکھے رہیو بے نیازسجدے سے تیرے در کے جو ہوتی ہو سرفرازمسجود ہوجو صبح سعادت کی وہ جبیں

۱۸

اہل نظر سے دیکھنا اودھر کا ہے عجبآنکھوں سے تیری رہ نہ چلے واقف ادبکس کو تھی یہ بزرگی و کس کا تھا یہ حسبیہ قدر تھی تری مرے مولا ہوا تو جبرونق فزاے کعبہ محمدؐ کا جانشیں

۱۹

کیا کہیے تیرے قرب سے اے سایۂ الٰہبے دانشی سے کچھ کہے کوئی دروں سیاہاپنی تو تجھ پہ پڑتی ہے جا کر وہیں نگاہفہم و گمان و وہم کو جس جا نہیں ہے راہہے چشم شوق عینک شفاف دوربیں

۲۰

جس کو نہیں ہے تیری محبت کا کچھ خیالافسوس اس کی زندگی و واے اس کا حالیاں اس کے سر وبال ہے واں رنج یا نکالتجھ سے نہ رکھے بندگی ہے کفر اور ضلالتیری ولا ہے داخل ایمان مومنیں

۲۱

میرؔ شکستہ حال نہایت ہے تنگ ابشوریدہ سر سے مارے ہے لے لے کے سنگ ابہر آن اس کو آپ سے رہتی ہے جنگ ابدست تہی سے خلق جہاں کا ہے ننگ ابخوش مت کر آہ اس سے زیادہ نہ کر غمیں

۲۲

افسوس ہے مدیح ترا اتنا خستہ حالہر لحظہ اک عذاب نیا ہردم اک وبالتھے اس چمن میں جو روش سبزہ پائمالیک دم میں تیرے ابر کرم نے کیے نہالبرسے انھوں پہ اوس کی جاگہ در ثمیں

۵۶۱ / ۵۸۲