کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
مسدس در نعت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم
جرم کی کھو شرمگینی یا رسولاور خاطر کی حزینی یا رسولکھینچوں ہوں نقصان دینی یا رسولتیری رحمت ہے یقینی یا رسولرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
لطف تیرا عام ہے کر مرحمتہے کرم سے تیرے چشم مکرمتمجرم عاجز ہوں کر ٹک تقویتتو ہے صاحب تجھ سے ہے یہ مسئلترحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
کیا سیہ کاری نے منھ کالا کیابات کرنے کا نہیں کچھ منھ رہارحم کر خاک مذلت سے اٹھامیرے عفو جرم کی تخصیص کیارحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
اب ٹھہرتا ٹک نہیں پاے ثباتدستگیری کر کہ پاؤں میں نجاتجرم کیا ہیں میری کتنی مشکلاتہے کفایت ایک تیری التفاترحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
دہر زیر سایۂ لطف عمیمخلق سب وابستۂ خلق عظیمتجھ سے جویاے کرم عاصم اثیمسخت حاجت مند ہیں ہم تو کریمرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
ہو رہے ہیں ہم جو دوزخ کے حطبسر پہ یہ اعمال لائے ہیں غضبرکھتے ہیں چشم عنایت تجھ سے سبتجھ سوا کس سے کہیں احوال ابرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
نیک و بد تیرے ثناخوان ہمملطف تیرا آرزوبخش اممملتفت ہو تو تو کاہے کا ہے غمتو رحیم اور مستحق رحم ہمرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
روؤں ہوں شرم گنہ سے زار زاربے عنایت کچھ نہیں اسلوب کاردل کو جب ہوتا ہے آکر اضطرارزیر لب کہتا ہوں یہ میں بار باررحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
سبز برپا ہوگا جب تیرا نشاںآفتاب حشر میں بہر اماںہووے گی انواع خلقت جمع واںکیوں نہ ہو سائے میں اس کے دوجہاںرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
روسیاہی جرم سے ہے بیشترروسفیدوں میں خجل مجھ کو نہ کرایک کیا آنکھیں ہیں میری ہی ادھرتجھ سے راجی بے بصر اہل نظررحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
کچھ بھی جو ہیں واقف راز و نیازعام تجھ انعام پر کر چشم بازشعر یہ مشہور سب وے دل گدازپڑھتے ہیں جاے دعا بعد از نمازرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
جب تلک تاثیر کا تھا کچھ گماںگہ قرآں خواں میرؔ تھے گہ سبحہ خواںوقت یکساں تو نہیں اے دوستاںاب یہی ہے ہر زماں ورد زباںرحمۃ للعالمینی یا رسولہم شفیع المذنبینی یا رسول
۵۶۴ / ۵۸۲