کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

میری تو بساط چشم تر ہے

۱

میری تو بساط چشم تر ہےسو نذر ہے اس پہ گر نظر ہے

۲

اس دشت میں زندہ ہوں میں جس میںہر گام پہ جان کا خطر ہے

۳

گرمی تو کر اے صنم کہ آخرپتھر کے جگر میں بھی شرر ہے

۴

پیری میں بھی بوجھ ٹک نہ پکڑازاہد تو تو ہنوز خر ہے

۵

مرتا ہوں جو میں تو عیب مت کرعاشق میں تو ایک پھر ہنر ہے

۶

کیا ہوتا ہے قتل گہ میں دیکھیںتیری شمشیر میرا سر ہے

۷

کہہ تو ہی کہاں تلک کریں صبرہم ہیں دشنہ ہے اور جگر ہے

۸

آنے سے ڈرو نہ دل میں میرےخوباں یہ تو تمھارا گھر ہے

۹

لبریز گلہ ہوں گرچہ لیکنہونٹھوں پہ نہ حرف کا اثر ہے

۱۰

چپ ہوں گویا ہوں بے زباں میںرکھتا ہوں عجب لب و دہاں میں

۱۱

تقصیر ہے بوالہوس کی اور مفتمارا جاتا ہوں درمیاں میں

۱۲

اکسا بھی نہ تیغ کھا کے بارےفارغ ہوا دے کے امتحاں میں

۱۳

اے طفل کہے گا بعد میرےمارا کاہے کو یہ جواں میں

۱۴

ہوں میں تو چراغ اخیر شب کاکوئی دم کا ہوں میہماں میں

۱۵

دل سوزی مری کر اے صبا ٹکہونے تئیں صبح کے کہاں میں

۱۶

رونے ہی کو روتا ہے گا ناصحپھرتا ہوں ڈبائے خانماں میں

۱۷

کوئی نہیں شہر غم میں میرابے چارہ غریب ہوں گا یاں میں

۱۸

غم کہہ کے رلاتا ہوں میں سب کوتجھ غم میں ہوا ہوں روضہ خواں میں

۱۹

پائی نہ وفا کسی میں دیکھاغربال تمام کر جہاں میں

۲۰

بارے میں یہ سب دیار دیکھاہر کوچے کو بار بار دیکھا

۲۱

شب ہی عالم میں ہوگئی تھیاپنے دل کا غبار دیکھا

۲۲

آنکھیں گئیں روتے روتے لیکنتونے نہ ادھر کو یار دیکھا

۲۳

اب وعدہ نہ کر زیادہ بس ہمجاناں ترا اعتبار دیکھا

۲۴

کہتے تھے یہ ہم نہ کر تمنااے جان امیدوار دیکھا

۲۵

دامن میں گرا ہو ٹکڑے ٹکڑےہم نے جی کو فگار دیکھا

۲۶

آنکھوں سے اٹھایا آبلوں کےصحرا میں جدھر کو خار دیکھا

۲۷

پوچھا نہ ہمارے بعد ہم کویارو یہ جہاں کا پیار دیکھا

۲۸

مدت تئیں دید کر جہاں کاطرز و وضع و شعار دیکھا

۲۹

دیکھا تو ملا نہ کوئی ہم فندیکھے یہاں شیخ اور برہمن

۳۰

عقل اول کو اک سنا تھانکلا سو معارضے میں کودن

۳۱

آنکھوں میں ٹھہر رہے ہیں آنسوہونٹھوں پہ دھرا رہے ہے شیون

۳۲

شیوہ ہے ہمارا نالہ کرنایاں سے کچھ سیکھ مرغ گلشن

۳۳

تجھ بن نہیں سانس اور کچھ ہےچبھتا ہے جگر میں ہو کے سوزن

۳۴

اے برق ادھر نہ آ ہمارےہر خوشے میں شعلوں کے ہیں خرمن

۳۵

ہم وے ہیں کہ باغ کر دکھائیںاشک گل گوں سے طرف دامن

۳۶

سختی ایام کی جو کہیےہوویں ابھی موم سنگ و آہن

۳۷

کیا تجھ سے سپہ گری جتاویںگر خود و زرہ نہ ہو نہ جوشن

۳۸

مجروح یہ ہیں گے ہم جو اڑ جائیںبھاگے ابھی جان لے تہمتن

۳۹

ایسے تو ہیں پر وفا میں ویسےخوباں تم ہو جفا میں جیسے

۴۰

پھر جاتے ہیں غیر اس سے ملنےآتے نہیں باز ایسے تیسے

۴۱

ہم رستم عشق ہیں گے کیونکرمنھ موڑیں ہزار پانسے سے

۴۲

سرکش نہ ہو زیر چرخ ان نےپامال کیے ہیں کیسے کیسے

۴۳

ہے بندہ نواز ظلم مجھ پرہم نالہ نہ کر تو مجھ کو نے سے

۴۴

گو موسم دے خنک ہو مجھ سےدل گرمی ہے مجھ کو زور مے سے

۴۵

ٹک دیکھ فلک نے شاہ خوباںکیا کچھ کیا خاندان کے سے

۴۶

سر بیچے سو عشق میں رکھے پاواقف نہیں دل تو یاں کی رے سے

۴۷

ہاتھوں میں مرے ہیں داغ خوباںکہتے ہیں کہ اس کنے ہیں پیسے

۴۸

کیا تجھ سے کہوں معاش اپنیبارے گذرے ہے جیسے تیسے

۴۹

رہتا ہے غرض ہمیشہ سوداکوچہ کوچہ ہوا ہوں رسوا

۵۰

وہ تشنہ دہن ہوں دل جلا ہوںلب چش جس کا نہ ہووے دریا

۵۱

کہتے ہو جسے فلک ہوا ہےمیرے ہی غبار دل سے پیدا

۵۲

کھلتا تو سہی کبھی بلا سےدل میرا ہی کاش غنچہ ہوتا

۵۳

اب جان سے جانا آرہا ہےموقوف اشارۂ تقاضا

۵۴

ہو جس کی خراب عاقبت بھیوہ میں ہوں کہ دین ہے نہ دنیا

۵۵

میں ہوں کہ سرآمد جنوں ہوںمجنوں کو خلیفہ میں کیا تھا

۵۶

وہ خستہ ہوں میں ہی جس کو کہیےرونق افزاے کوہ و صحرا

۵۷

یہ کچھ جو کہہ گیا بتاں میںخاطر میں تمھاری بھی کچھ آیا

۵۸

یا یوں ہی بکا میں کچھ تو بولوخواہاں ہو تو خامشی ہے یہ کیا

۵۹

سودا نہیں کچھ وگرنہ مجھ کوکرتا ہے کوئی زیان جی کا

۶۰

گر اتنے پہ دل برا ہے میراموقوف کرو خدا ہے میرا

۶۱

تم کو تو ہے کیا مرے ملے سےپر اس میں بتاں بھلا ہے میرا

۶۲

مرنے سے ڈرا نہ مجھ کو قاتلجی دینا تو مدعا ہے میرا

۶۳

زنہار حنا کہ اس کے پا پرمدت سے یہ سر لگا ہے میرا

۶۴

سودا بہ رضا ہے مل ہر اک سےلگتا صنم اس میں کیا ہے میرا

۶۵

یک نیم نگہ سے مول لے چکٹک دیکھ کہ یہ بہا ہے میرا

۶۶

میں ہوں کہ ہلاہل الم سےکٹ کٹ کے جگر گرا ہے میرا

۶۷

جاؤ کہ رہو یہ جی جفا سےکچھ ہو شیوہ وفا ہے میرا

۶۸

کاکل کو نہ کھول الجھنے کودل زور ہی منچلا ہے میرا

۶۹

جوں توں کرکے طپش سے شب کومژگاں پہ جگر رہا ہے میرا

۷۰

کل تک تو مرا یہ دل بجا تھااپنا دلخواہ مدعا تھا

۷۱

تھے جن و ملک جلو میں میریاقبال مرا کوئی بلا تھا

۷۲

تھا روے زمیں پہ شاد و خرمکیا جانوں فلک کے جی میں کیا تھا

۷۳

ایسا ہی نہ تھا بتو میں آگےآخر کوئی میرا بھی خدا تھا

۷۴

ہوتے جو شہید یک تمناسو سو طرفوں سے خوں بہا تھا

۷۵

اک روز چنانچہ ہول دل سےاندوہ تنک مجھے ہوا تھا

۷۶

لوہو دیا اپنا دوستوں نےجس جاگہ مرا عرق گرا تھا

۷۷

ہوں اب جو بلا میں مبتلا میںبیگانہ ہے جوکہ آشنا تھا

۷۸

یہ رنج و بلا و درد و محنتاے واے حواس و صبر و طاقت

۷۹

ایدھر بھی کبھو ٹک ایک چشمکہم سے بھی ضرور ہے مروت

۸۰

مت فرصت وقت سے ہو غافلآخر کو نہ کھینچے تا خجالت

۸۱

ہر آن میں اپنی تربیت کردیتا ہے زمانہ کس کو فرصت

۸۲

غیروں کے رہوگے دیر تک تمہم کو تو سویرے کرکے رخصت

۸۳

کیا تم سے کہیں سلوک ہجراںدل میں نہ رکھی ہمارے حسرت

۸۴

قطرہ تو ہے پر نہ ہاتھ اٹھاؤدریا کو کرے ہے یہ کفایت

۸۵

خالی دل پر کو ہم بھی کرتےافسوس نہ دی اجل نے فرصت

۸۶

بس میرا ہو تو کروں منادیکوئی نہ کرے کہیں محبت

۸۷

گردن ماریں شتابی اس کورکھے جو کسی سے میرؔ الفت

۵۶۵ / ۵۸۲