کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئی

۱

میں نے جو بے کسانہ مجلس میں جان کھوئیسر پر مرے کھڑی ہو شب شمع زور روی

۲

آتی ہے شمع شب کو آگے ترے یہ کہہ کرمنہ کی گئی جو لوئی تو کیا کرے گا کوئی

۳

بے طاقتی سے آگے کچھ پوچھتا بھی تھا سورونے نے ہر گھڑی کے وہ بات ہی ڈبوئی

۴

بلبل کی بیکلی نے شب بے دماغ رکھاسونے دیا نہ ہم کو ظالم نہ آپ سوئی

۵

اس ظلم پیشہ کی یہ رسم قدیم ہے گیغیروں پہ مہربانی یاروں سے کینہःجوئی

۶

نوبت جو ہم سے گاہے آتی ہے گفتگو کیمنہ میں زباں نہیں ہے اس بد زباں کے گوئی

۷

اس مہ کے جلوے سے کچھ تا میرؔ یاد دیوےاب کے گھروں میں ہم نے سب چاندنی ہے بوئی

۵۶۶ / ۵۸۲