کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

پھر کیا یہ دھوم ہے کہ جہاں ہے سیہ تمام

۱

پھر کیا یہ دھوم ہے کہ جہاں ہے سیہ تمامپھر کیا یہ ماجرا ہے کہ ہوگئی ہے صبح شام

۲

پھر کیا ہے یہ غبار کہ اٹھتے ہیں دل سے جوشپھر کیا یہ مجہلہ ہے کہ حیراں ہیں خاص و عام

۳

پھر کیا ہے یہ فتور کہ ہے شور ہر طرفپھر کیا یہ حشر ہے کہ جہاں میں ہے دھوم دھام

۴

پھر کیا ہے یہ خیال سر دور چرخ میںجس سے نہیں زمین کے مرکز کا اک مقام

۵

پھر کیسا واقعہ ہے کہ یہ زلزلہ ہے یاںبرہم ہوا سا دیکھتے ہیں دہر کا نظام

۶

کس کا کیا ہے تازہ حوادث نے ایسا خوںہر صبح آفتاب پیے ہے لہو کا جام

۷

پہنچا نہیں ہے وعدۂ محشر ابھی مگرجبریل کہہ کے صل علیٰ جس کا لے ہے نام

۸

زہرا کے دل کا لخت محمدؐ کا نورعیناسلامیوں کے ظلم سے مارا گیا حسین

۹

کاش اس گھڑی زمیں پہ گرا ہوتا آسماںکاش اس گھڑی جہاں سے گیا ہوتا یہ جہاں

۱۰

تھا بال بال اس کا رگ جان مصطفےٰؐتر کرتے خوں میں کاشکے حوروں کے گیسواں

۱۱

جن و ملک تمام کیے ہوتے قتل کاشچھوڑا نہ ہوتا کاشکے انسان کا نشاں

۱۲

سیلی نسیم مرگ کی لگتی گلوں کے تیںغنچہ ہوا ہے آخر موسم کا وہ دہاں

۱۳

اللہ رے حسین ستم کشتہ کا جگرفارغ ہوا خدا کے تئیں دے کے امتحاں

۱۴

یارب جواب داور محشر کہے گا کیابولے گا جب کہ حلق بریدہ سے یہ جواں

۱۵

کیا محشریں اٹھیں گی الٰہی جو حشر کوہوگا یہ کشتہ ساتھ محمدؐ کے ہو رواں

۱۶

روح القدس نہ سامنے ہوگا رسولؐ کےہوگا حسین روبرو زہرا ملول کے

۱۷

سیراب جس کے خوں سے ہے میدان کربلاسو تشنہ لب موا ہے وہ مہمان کربلا

۱۸

سینے کے تیں چراتے ہیں سب حاملان عرشسر کھینچے ہے جب آہ غریبان کربلا

۱۹

یہ شاہ دیں شہید ہوا ہوگا جس گھڑیدیوان حشر ہووے گا دیوان کربلا

۲۰

اے چرخ پیر آل پیمبر ہے سرخ پوشصلواۃ بر حسین و جوانان کربلا

۲۱

زہراب تیغ ظلم سروں سے گذر گیایک شہر غرق خوں ہے بیابان کربلا

۲۲

لب تشنگی حسین کو یہ تھی نہ ہو سکاطوفان نوح قطرۂ طوفان کربلا

۲۳

روپوش ہو فلک کہ قیامت ہے جس گھڑیبے پردہ ہوں گی خیمہ نشینان کربلا

۲۴

کتنے کہ جن کا نام سنے بھیجئے درودافسوس ہے کہ موے پریشاں کریں نمود

۲۵

غافل نہ رہ سپہر کہ فتنہ بپا ہوانکلا ہے خیمہ شام کو شہ کا جلا ہوا

۲۶

جس کے طناب تھے رگ جاں جبرئیل کےسو خیمہ کربلا میں رہا ہے گڑا ہوا

۲۷

ہے ظلم جا ہے ماتمیان حسین کاہر نالہ لامکاں کے پرے تک چلا ہوا

۲۸

ہے سربرہنہ مویہ کناں بضعۃ الرسولحیراں ہیں قدسیاں کہ یہ کیا ماجرا ہوا

۲۹

محمل نشین عترت پیغمبر خداہیں سب شترسوار نمایاں یہ کیا ہوا

۳۰

کیا چال ہے فلک کہ سر بیکس حسیناس قافلے سے جا ہے سناں پر جدا ہوا

۳۱

تحریر اس گھڑی کی فغاں خامے سے نہ ہوبے سر کی لاش پر جو سر حرف وا ہوا

۳۲

بے تاب و بے قرار اسیر ستم ملولفریاد کرکے سارے پکارے کہ یا رسولؐ

۳۳

بے سر جو یہ بدن ہے تمھارا حسین ہےبیکس غریب ظلم کا مارا حسین ہے

۳۴

ناموس خاندان نبوت جو شام کولے اپنے سر کے ساتھ سدھارا حسین ہے

۳۵

اس لشکر شکستہ ستم دیدہ کا تماماب جس کی لاش پر ہے گذارا حسین ہے

۳۶

مردہ پر اس کے آؤ کہ عابد تو ہے اسیرآخر یہ بے کفن وہی پیارا حسین ہے

۳۷

صد طعن ہر سخن میں ہیں جن کے سو غیر ہیںجس کو نہیں ہے بات کا یارا حسین ہے

۳۸

رہتی تھی جس کی تیری بغل جلوہ گاہ نازسو یہ کیے جہاں سے کنارہ حسین ہے

۳۹

دلجوئی سکینہ میں ہم سب ہیں اہل بیتپر یہ کرے ہے جس کو اشارہ حسین ہے

۴۰

سو سر تو اس کا نیزہ پہ ہے دھڑ ہے یوں خرابکس منھ سے دے وہ ظلم رسیدہ اسے جواب

۴۱

ہم یا رسولؐ شام کو جاتے ہیں خوار و زارمارا گیا حسین پھرا ہم سے روزگار

۴۲

میداں میں تن سے دست و بغل ہورہے ہیں زخمہوتی نہیں ہے لاش نبی زادہ یک کنار

۴۳

جز ابر کون ہے کہ جو رووے حسین پرنالاں نہیں ہے اس پہ کوئی غیر کوہسار

۴۴

ہے اب جو یادگار جوانان اہل بیتہے بار ذمہ اس کو گلا اپنا طوق دار

۴۵

یعنی یہ عابدیں کی اسیری و بیکسیرکھتا نہیں ہے غیر رسن کوئی دستیار

۴۶

انصاف دادگر تھا یہی ہم سے جو کیاخاک امام ہی پہ نکالا یہ سب غبار

۴۷

مایوس ہو یہ کہہ کے اسیران اہل بیتواں سے ہوئے روانہ جو روتے دلوں کو مار

۴۸

آندھی چلی کہ تیرہ جہاں ووہیں ہوگیااک ابر سامنے سے اٹھا زور رو گیا

۴۹

دو گام چل کے پھر کیا زہرا کے تیں خطابکہہ تشنگی حسین کی دریا کیے کباب

۵۰

یعنی بتول جیتے جو ہیں سو تو ہیں اسیران جان سے گئے ہوؤں کی مٹی ہے خراب

۵۱

ہر نالہ خونچکاں تو ہے جنت کو نامہ برپر کیا لکھا ہے یہ کہ نہیں پہنچتا جواب

۵۲

مارا پڑا ہے ساقی کوثر کا نورچشمسو تشنہ کام ہو کے یہ کہتا تھا آب آب

۵۳

ہے روز بد کہ نیزے پہ جا ہے سر حسیناندھیر ہے کہ شام کو جاتا ہے آفتاب

۵۴

گیسو کہ ریشہ جن کا ترے خون دل میں تھاژولیدہ ہیں گے باد پریشاں سے کھا کے تاب

۵۵

بے آب دشت بیچ تباہی ہے یہ جہازطوفاں ہے یہ کہ بیٹھ گئے خیمے جوں حباب

۵۶

یا بضعۃ الرسول سبھی کی ہے الوداعناموس خاندان نبی کی ہے الوداع

۵۷

یک بار پھر علی کی طرف سب نے کی نداعابد انھوں میں خاصۃً کرکے ہائے ہا

۵۸

بولا کہ جد پاک بیاں تجھ سے کیا کروںامت نے آگ دی کہ نبیؐ ہی کا گھر جلا

۵۹

گھر کی خرابی عرض کروں یاکہ اپنا حالیا وہ کہوں حسین کا پایا جو خوں بہا

۶۰

یعنی گرانی طوق کی جس سے رکے ہے دمہو چاک سینہ کاش کہ آوے تنک ہوا

۶۱

یہ سن نہاد دہر سے بھڑکی اک آگ تندہر یک زبانہ جس کا پرے عرش سے گیا

۶۲

نوری و ناری آدمی حیوان اور طیران سب کو ایک آن میں بھسمنت کر دیا

۶۳

آیا ہمارے وہم پریشاں خیال میںلپٹے ہیں جا کے شعلے بہ دامان کبریا

۶۴

ہر ایک کو ہے درد جگرسوز یوں نصیباللہ کو بھی کہتے ہیں شہ رگ سے ہے قریب

۶۵

ہم سب ہیں اب تو غربتی دشت خوفناکملتی نہیں ہے سر کے اپر ڈالنے کو خاک

۶۶

کیونکر دکھاویں روضے کو ہم تیرے اپنے دلاے کاشکے قضا نے کیے ہوتے سینے چاک

۶۷

وہ گھر کہ جو رہا حرم کبریا کے رشکدی شامیوں نے آگ گئے شعلے تا سماک

۶۸

ناموس احمدی کو دیا غیروں نے ببادتیرا ملاحظہ نہ کیا نے نبیؐ کا باک

۶۹

یہ اک جوان کشتہ جسے چھوڑ آئے ہمآلودہ خاک و خون میں جس کا تھا جسم پاک

۷۰

تھا یہ حسین جس کا محمدؐ تھا نازکشناچار آفتاب سے اب اس کو ہے تپاک

۷۱

دل بھر رہے ہیں دانۂ انگور کی طرحاس داربست سبز فلک سے لگی ہے تاک

۷۲

یعنی شتاب قہر الٰہی نزول ہوروح معاویہ بھی تنک تو ملول ہو

۷۳

یہ کہہ کے جد پاک سے جو وہ جواں گرابے طاقتی سے تپ کی امام زماں گرا

۷۴

یہ سن کے مضطرب ہوئی روح وصی پاکصدمے سے جس کے نعرے کے قصر جناں گرا

۷۵

ماتم کی طرح اور فلک نے نئی رکھیجب آگے اہل بیت کے وہ ناتواں گرا

۷۶

اک شور نوحہ رو بہ بیابان پھر ہواجس سے ہوا گمان کہ یہ آسماں گرا

۷۷

ہر اک نے بے قرار ہو یہ شور سے کہاگرنے کی جا نہ تھی یہ تو عابد کہاں گرا

۷۸

وحشت عجب طرح کی نمودار ہوگئیجس وقت خاک رہ پہ وہ جان جہاں گرا

۷۹

وحشی جو تھے غزال گئے چوکڑی کو بھولطائر جو قدس کا تھا مع آشیاں گرا

۸۰

آیا بحال بارے اٹھا دل جلا کر آہالقصہ شام کی لی چراغ نبی نے راہ

۸۱

اے چرخ کیا کہوں کہ ستمگار کیا کیادیکھا کیا تو خانۂ حیدر جلا کیا

۸۲

یہ داد تھی کہ قتل کر ابن علی کے تیںابن معاویہ کے تئیں بادشا کیا

۸۳

کس طرح اپنی جاے رہا تو ستم شعارگردن پہ جب حسین کے خنجر چلا کیا

۸۴

مسجد میں خون گرنے سے بدتر تھا یہ عملسجدہ امام دیں نے لہو میں ادا کیا

۸۵

کیا کیا دکھایا آنکھ مندے پر حسین نےباقی رہے ہوؤں پہ ستم ہی رہا کیا

۸۶

کیا ناخن ہلال سے سر کو کھجائے گاعقدہ جو اہل بیت کے دل کا نہ وا کیا

۸۷

ظالم ستم ہے حشر کو حلق بریدہ سےاس کشتۂ ستم نے اگر کچھ گلہ کیا

۸۸

بے تابی ایک داور محشر کو آئے گیتیرے سبب یہ خلق بھی بخشی نہ جائے گی

۸۹

خاموش میرؔ لب نہ کریں اب سخن سے سازچپ رہ خدا کو مان کہیں اے زباں دراز

۹۰

ہر حرف تیرے منھ سے نکلتا ہے شعلہ زنسینے میں دوستوں کے ہوا جا ہے دل گداز

۹۱

کیا ظلم ہے کہ قتل ہوا ہو امام وقتاور اس کی لاش بے کفن اوپر نہ ہو نماز

۹۲

خاموش میرؔ شمع رسالت کی بجھ گئیباد شمال ظلم نے کی صبح ترکتاز

۹۳

خاموش میرؔ بس یہ جگرسوز غم نہ کہہگریہ کے ہم تو لخت جگر کرتے ہیں نیاز

۹۴

خاموش میرؔ آتش غم ہے زبانہ کشلگ جائے گا جگر کو کوئی داغ آہ باز

۹۵

خاموش میرؔ بولنے کی جا نہیں ہے یہویرانے میں پڑا رہا کہتے ہیں گنج راز

۹۶

خاموش میرؔ کرتی ہے دل چاک تیری باتصلواۃ بر حسین کہ ہوگی تری نجات

۵۶۷ / ۵۸۲