کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کا

۱

چہلم ہے اے محباں اس شاہ دوسرا کاجو آرزوے جاں تھا پیغمبر خدا کامذبوح دار و دستہ سب خنجر جفا کارہتا کوئی تو ہوتا غم اس کے کچھ عزا کا

۲

آگے ہی مر گئے تھے اس کے جو تھے ہوادارماتم لے کون بیٹھے کون اس کا ہو عزاداراک عابدیں سو اس کی ایذا کے سب رواداربیمار تس کے اوپر محتاج وہ دوا کا

۳

بھائی نہ تھا کہ روتا مردے پہ ٹک کھڑا ہواکبر نہ تھا کہ اس کو واں گور اور گڑھا ہوقاسم نہ تھا کہ جس کا دل داغ ہوگیا ہووہ جان کر موا تھا احوال یہ چچا کا

۴

وارث نہ غیر عابد سو مبتلا بلا میںگردن میں طوق اس کے زنجیر اس کے پا میںاک شور سا ہو اٹھتا رونے کا جب نسا میںمنھ دیکھ دیکھ روتا ہمشیر اور ما کا

۵

کڑھنا بنا نہ اس پر دلخواہ عورتوں کومہلت کہاں کہ کہتے اپنی مصیبتوں کووارث موئے اٹھایا کیا کیا اذیتوں کورونا ہر ایک کو تھا اسباب میں ردا کا

۶

خیمے کیے جلاکر سب خاک کے برابراہل حرم کے سر پر معجر نہ ایک چادرپرسش کو کام کھنچتا ہوتا جو کوئی داوراس طور گھر کو لوٹا دیتے ہیں جیسے ڈاکا

۷

جور و ستم کی آندھی شدت سے آہ آئیگلزار رشک وادی اک دم میں کر دکھائیخاشاک و خار و خس نے واں سہل راہ پائیہوتا تھا جس چمن میں مشکل گذر صبا کا

۸

ایسے ثبات پا سے مرنا بہت ہے مشکلسو سو سیاہ دل تھے ایک ایک کے مقابلرحمت برآں جواناں لعنت بہ جمع باطلمر تو گئے وے سید پر کر گئے ہیں ساکا

۹

آیا تھا کس گھڑی کا جو پھر نہ گھر گیا وہسر دے سر جہاں سے آخر گذر گیا وہیعنی کہ ہوکے بیکس ناچار مر گیا وہٹھہرا رکھا تھا ان نے چارہ یہ انتہا کا

۱۰

تیر و سناں کی بارش کرتا رہا نظارہدیکھا نہ آنکھ اٹھاکر کنبہ موا بھی سارابیٹے موئے تو ان نے زنہار دم نہ ماراکیا کیا ستم اٹھائے پر راضی تھا رضا کا

۱۱

جا سے گیا نہ اپنی ووہیں رہا شکیباکیا حوصلہ تھا یارب کیسا دل و جگر تھامرنا سبھوں کا دیکھا ان نے خموش یک جابولا نہ غیر ازیں کچھ چارہ نہیں قضا کا

۱۲

نو گل چمن کے اپنے مرجھائے ان نے پائےاشجار سرکشیدہ اکھڑے نظر میں آئےپودھے جو تھے سو پھل سب حلق بریدہ لائےپھر جانا خوب دیکھا یکبارگی ہوا کا

۱۳

غربت کی سختی دیکھو اس بے وطن کو دیکھوگرم آفتاب میں پھر سیر بدن کو دیکھوعابد کے ہاتھ دیکھو یارو رسن کو دیکھونے پاس مصطفےٰؐ کا نے خوف مرتضےٰؓ کا

۱۴

احمد کو سرکشی سے بالفرض وَی نہ مانوحیدر کو بے تہی سے کچھ بھی نہ دل میں جانوکلثوم اور یہ دھومیں دشت اور شہربانوانصاف کوئی پوچھے تھا کون سی یہ جا کا

۱۵

بہنوں کو پیٹنے کی مطلق ملی نہ فرصتبیٹے کو راہ چلنا اس پر کہ تھی نہ طاقتحلواے مرگ کیسا کیسی رسوم میتہر ایک مبتلا تھا درد و غم و بلا کا

۱۶

بابا حسین کہہ کر روتی تھی جب سکینہدل چاک ہوتے تھے سب پھٹتا تھا سن کے سینہکہتا تھا ناملائم کیا کیا ہر اک کمینہحرف تسلی کیسے مذکور کیا وفا کا

۱۷

پرخار وہ بیاباں کثرت سے تنگ آیابندی کیا سبھوں کو ماتم وہ یوں اٹھایابے محمل اشتروں پر عورات کو بٹھایاپھر راہ ضیق ایسی جیسے سوئی کا ناکا

۱۸

یہ خونچکاں فسانہ رکھتا نہیں ہے پایاںمہماں عزیز ایسا تعظیم کا جو شایاںاس پر یہ جور بے حد ایسی جفا نمایاںہے داغ سب کے دل پر اس طرفہ ماجرا کا

۱۹

وہ کنج زار صحرا پھر چہل روزہ مدتکچھ بولیے نہ اس جا یہ ہے خدا کی قدرتجب عابدیں نے پائی اس قید سے فراغتتب آکے جسم گاڑا اس سب کے پیشوا کا

۲۰

القصہ شامیوں نے کیا کیا جفا عیاں کیچادر تلک نہ چھوڑی ان ظلم دیدگاں کیپوشیدہ کیا رہا ہے حاجت جو ہو بیاں کیکہا شرح و بسط کریے اس خارجی ادا کا

۲۱

آیت حجاب کی تھی شانوں میں جن کی نازلسر ننگے پابرہنہ لائے انھوں کو جاہلحق میرؔ یہ ہے تھے وے مردود سارے باطلپردہ اٹھا دیا تھا اس قوم نے حیا کا

۵۶۸ / ۵۸۲