کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیے
۱
پیری میں کیا جوانی کے موسم کو روئیےاب صبح ہونے آئی ہے اک دم تو سوئیے
۲
رخسار اس کے ہائے رے جب دیکھتے ہیں ہمآتا ہے جی میں آنکھوں کو ان میں گڑویئے
۳
اخلاص دل سے چاہیے سجدہ نماز میںبے فائدہ ہے ورنہ جو یوں وقت کھوئیے
۴
کس طور آنسوؤں میں نہاتے ہیں غم کشاںاس آب گرم میں تو نہ انگلی ڈبوئیے
۵
مطلب کو تو پہنچتے نہیں اندھے کے سے طورہم مارتے پھرے ہیں یو نہیں ٹپے ٹویئے
۶
اب جان جسم خاکی سے تنگ آ گئی بہتکب تک اس ایک ٹوکری مٹی کو ڈھویئے
۷
آلودہ اس گلی کی جو ہوں خاک سے تو میرؔآب حیات سے بھی نہ وے پاؤں دھوئیے
۵۷۲ / ۵۸۲