کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر

کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسینا

۱

کیا نحس تھا دن روز سفر ہائے حسیناناموس کو نے گھر ہے نہ در ہائے حسینا

۲

اعوان ترے جو تھے انھیں کھا گئی تلوارانصار ترے سب گئے مر ہائے حسینا

۳

واماندہ ترے کہتے ہیں سر دیکھ کے تیراہم کیونکے کریں عمر بسر ہائے حسینا

۴

مدت تئیں کر یاد زمانے کو ترے ہمروتے رہیں گے آٹھ پہر ہائے حسینا

۵

ہم شام کو قیدی ہوچلے دیکھیے بارےہوتی ہے یہ شب کیونکے سحر ہائے حسینا

۶

تجھ بن کمریں ٹوٹی ہی جاتی ہیں اگرچندہم باندھتے ہیں کس کے کمر ہائے حسینا

۷

دل سوختگی اپنی کی کیا شرح کریں ہائےآنسو تو ہوئے جیسے شرر ہائے حسینا

۸

جوں نقش قدم خاک میں ہم ملتے ہیں تجھ بنپیدا نہیں کچھ تیرا اثر ہائے حسینا

۹

منظور نجابت نہ شرافت نہ سیادتاب عیب ہوئے سارے ہنر ہائے حسینا

۱۰

وارث نہیں جو پانی دے تم پیاسے موؤں کوباقی ہے سو بیمار پسر ہائے حسینا

۱۱

تیرا ہی جگر تھا کہ ستم تونے یہ دیکھےسب ٹکڑے ہوئے تیرے جگر ہائے حسینا

۱۲

اس دشت میں یہ منفعت آکر کے اٹھائیتو کھینچ گیا جی کا ضرر ہائے حسینا

۱۳

جز جور و ستم کچھ نہیں دیتا ہے دکھائیجاتی ہے جدھر اپنی نظر ہائے حسینا

۱۴

کیا خانہ خرابی کا بیاں کرتے ترے ساتھاٹھتے ہی ترے لٹ گیا گھر ہائے حسینا

۱۵

لالا کے بٹھاتے ہیں ہمیں راہگذر میںتو جی سے گیا ہے جو گذر ہائے حسینا

۱۶

اکبر کو کہ اصغر کو کہ قاسم کو کڑھیں ہمکیا خاک برابر ہیں گہر ہائے حسینا

۱۷

ایسا تو گیا اٹھ کے کہاں گھر سے کہ ہم تکپھر آئی نہ کچھ خیرخبر ہائے حسینا

۱۸

نے سایہ جہاں بیٹھیے نے سر پہ ہے چادرہے حال نہایت ہی بتر ہائے حسینا

۱۹

ہم دست تلطف کے ترے اٹھتے ہی سارےہر خس کے ہوئے دست نگر ہائے حسینا

۲۰

اس قوم سیہ رو نے زیادہ دہنی سےکچھ کسر میں چھوڑی نہ کسر ہائے حسینا

۲۱

کیا اکبر و قاسم ہیں سبھی حلق بریدہیہ پودے عجب لائے ثمر ہائے حسینا

۲۲

بے خوف و خطر لوٹتے ہیں گھر کو مخالفتو ہو تو ترا ہووے بھی ڈر ہائے حسینا

۲۳

ہر سمت کو سر مارتے جنگل میں پھریں ہیںاب جا کے تجھے ڈھونڈیں کدھر ہائے حسینا

۲۴

ٹھہرے ہے کوئی جن و ملک تیری جگہ پریہ صبر نہ تھا حد بشر ہائے حسینا

۲۵

لب خشک عزیز اپنے جو سب مارے پڑے ہیںہر لحظہ مژہ ہوتی ہے تر ہائے حسینا

۲۶

کیا کیا نہ اذیت ہمیں دیتے ہیں گزندےحیدر نہیں جس کا ہو خطر ہائے حسینا

۲۷

انواع ستم دیکھتے ہیں تیرے موئے پرکھول آنکھ ٹک انصاف تو کر ہائے حسینا

۲۸

آگے بھی کہیں میرؔ جو کچھ بات رہی ہوہے لب پہ یہی شام و سحر ہائے حسینا

۵۷۳ / ۵۸۲