کلامِ میرمثنویات، مراثی و دیگر
کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلا
کرتا ہے یوں بیان سخن ران کربلااحوال زار شاہ شہیدان کربلاباآنکہ تھا فرات پہ میدان کربلاپیاسا ہوا ہلاک وہ مہمان کربلا
انصاف کی نہ ایک نے کی چشم نیم بازکھولے ستم کے ہاتھ زبانیں کیاں درازقتل امام مقصد و تیاری نمازبدتر تھے کافروں سے مسلمان کربلا
سیلاب تھا بلا کا ہر اک سمت گرم جوشفریاد بیکساں کی طرف کم کسو کے گوشآل نبی تمام ہوئی خوں سے سرخ پوشصلواۃ بر حسین و جوانان کربلا
انواع جور مدعی ایجاد کر گئےتخت و کلاہ احمدی برباد کر گئےکیا تیرہ روز شامی بھی بیداد کر گئےپایا زبون مور سلیمان کربلا
منصف تھے ہائے کتنے دروں تیرہ اہل شامخوش تشنہ لب جنھوں نے کیا کشتن امامفخر بشر کا نور دل و دیدہ تشنہ کامسیراب وحش و طائر و حیوان کربلا
یارب نہ تھا سپہر پہ اس وقت کوئی بھی کیاجب سر پہ اہل بیت کے تھی اس قدر جفاہوتا کوئی تو دیکھتا ہی سر کو ٹک جھکاتا لامکاں تھا شور غریبان کربلا
نوک سناں پہ رکھ کے چلے لے سر امامناموس کے جو لوگ تھے بندی ہوئے تمامٹکڑے جگر کے ہوتے تھے کرتا تھا جب کلامبے خانماں وہ جمع پریشان کربلا
بیٹے بھتیجے اس کے جواں مارے سب پڑےہو ٹکڑے ٹکڑے سامنے بیکس بہت لڑےفرصت نہ اتنی دی کہ کوئی خاک میں گڑےپوشیدہ کیا ہے ظلم نمایان کربلا
سر اس کا کٹ کے نیزے پہ جس دم رکھا گیانونیزہ پانی چڑھ کے جیوں کو ڈبا گیاہرچند بوند پانی کی کوئی نہ پا گیالیکن خدا کا قہر تھا طوفان کربلا
تھی عابدیں کے لب پہ شکایت یہ خونچکاںکاے چرخ آہ کیونکے نبھے گا یہ کارواںیہ سب ہیں زیربار الم میں ہوں ناتواںطے کس طرح سے کریے بیابان کربلا
مشفق پدر تو رخت سفر کر گیا ہے باربھائی کو اس سے آگے ہی دشمن گئے تھے مارہوں میں برہنہ پا سو مرض سے نحیف و زارپھر ہر قدم پہ خار مغیلان کربلا
ہے تودہ تودہ لاشوں پہ جن کی یہ خاک دھولسب یہ شگفتہ رو تھے نگاہوں میں جیسے پھولمنھ دیکھ ان کے کہتے تھے صلواۃ بر رسولؐگلزار تھی یہ وادی ویران کربلا
اب سب ہی خاک و خون میں وے ہیں اٹے پڑےاشجار و نونہال ہیں سارے کٹے پڑےدل ہیں فگار سینے ہیں سب کے پھٹے پڑےمسلخ سے کم نہیں یہ گلستان کربلا
جل جل کے ایک ایک سے اس کا تھا یہ خطابکاے قوم بس بہت ہوئی اب کم ہے جی میں تابپہلو سے میرے ہے جگر دشت بھی کبابرکھ ہاتھ دیکھ سینۂ بریان کربلا
یہ آگے جانتے نہ تھے دیکھیں گے یہ ستمخون پدر گرے گا زمیں پر رکیں گے دماندوہ و درد و رنج و الم اب ہے اور ہمخرد و کلاں ہیں کشتۂ احسان کربلا
موقوف ہوگی غم کشی یہ جب نہ ہوں گا میںمدت تلک مصیبتیں اپنی کہوں گا میںجیتا رہوں گا جب تئیں روتا رہوں گا میںاب تھم چکے یہ دیدۂ گریان کربلا
زینب کے لب سے حرف نکلتے تھے شکوہ ناکآشفتہ مو وہ سر میں کھڑی ڈالتی تھی خاککہتی تھی تا سپہر مگر اے خداے پاکجاتے نہیں یہ نالہ و افغان کربلا
شاید غبار رکھتی ہیں چشمان مہر و ماہاحوال پر ہمارے نہیں مطلقاً نگاہپردہ رہے جو گر پڑے گردون روسیاہہیں سربرہنہ خاک نشینان کربلا
باد شمال ظلم ادھر کو جو آگئیایک ایک کرکے دین کی شمعیں بجھا گئیدل داغ سارے کر گئی سینے جلا گئیسب اڑ گئی وہ خوبی ایوان کربلا
پیٹے ہیں ہم حسین کو جو کھول کھول بالکیا خاطروں سے جاتے رہیں گے ہمارے حالاشجار بید کے جو ہیں سو سالہاے سالدیویں گے یاد یہ سر عریان کربلا
کرتے جو نوحہ لاشوں پہ ہم جمع آ ہوئےآنکھوں سے دل کے ٹکڑے گرے بال وا ہوئےبے جا ہمارے شور سے وحشی بجا ہوئےدیواں ہوا ہے حشر کا دیوان کربلا
اس لوٹے کاروان کا دیکھے کوئی گذاریہ سانحہ ہوا ہے زمانے کا یادگارعترت نبیؐ کی اونٹوں پہ ہے ننگے سر سوارسجاد نالہ کش ہے حدی خوان کربلا
وارث کے پیچھے جانیں گئیں وسوسوں سے ہائےکیا طرحیں چرخ کرتے ہیں ہم بیکسوں سے ہائےکیسی کمی اٹھائی ہے ہم نے خسوں سے ہائےکس سے کہیں یہ درد فراوان کربلا
ناگہ نگہ جو لاش پہ قاسم کی جا پڑیساعت وہ گذری اہل حرم پر بہت کڑیماں اس کی سر کو پیٹتی کہتی تھی یہ کھڑیہے دیدنی یہ نوشہ بے جان کربلا
چن چن کے دشمنوں نے عزیزوں کے کاٹے سرمارا پڑا رئیس تلف ہوگئے پسرسر پر نہ عورتوں کے ردا تھی نہ ان کو گھرآئی نہ کام ہمت مردان کربلا
آیا جو شاہ یاں تو یہیں کا یہیں رہاانواع جور و ظلم و ستم جان پر سہاآخر کو خون اس کا اسی خاک پر بہانکلا نہ پھر وہ یوسف زندان کربلا
آنکھوں کو جس کی رہ میں بچھایا کیے ہیں ہممنت سے جس کے ناز اٹھایا کیے ہیں ہممسند پہ جس کو ناز کی پایا کیے ہیں ہمسو خاک میں پڑا ہے وہ سلطان کربلا
یہ مردمی تو دیکھو کہ دریا بہا کیاخیمہ کھڑا کنارے پر اس کے رہا کیاشہ بہر طفل پانی ہی پانی کہا کیاپیاسا موا ندان وہ نادان کربلا
بالفرض دشمنوں نے نہ کی اس طرف نظرکینہ سے ہونٹ سوکھے ہمارے نہ چاہے تراک ابر بھی نہ آن کے برسا تنک ادھرتا آسماں تھی شورش عطشان کربلا
کلثوم یوں تھی لاش پہ بھائی کی حرف زنسر کیا ہوا کہ خاک میں پامال ہے بدنپھر وجہ کیا کہ اب نہیں ملتا تجھے کفناے بادشاہ بے سر و سامان کربلا
ہم کچھ کریں جو فکر سو قدرت نہیں ہمیںماتم میں تیرے بیٹھیں سو فرصت نہیں ہمیںمیت کی رسمیں کرتے سو مہلت نہیں ہمیںرسوائی کر رہے ہیں نگہبان کربلا
مہمانی ہم مسافروں کی کیا رہی ہے یاںلخت دل و جگر تھے جو مارے پڑے جواںجانا نہ ہم نے یاں کا دم آب و پارہ ناںدیکھی سو اب یہ نعمت الوان کربلا
اس خاک پر اترتے نہ فرصت تجھے رہیدرپیش ہر قدم پہ قیامت تجھے رہیبے ڈولیوں سے یاں کی کدورت تجھے رہیشائستگی مگر نہ تھی شایان کربلا
ہو دلخوشی کسو کو تو ہو بھی شگفتہ روشادی ہو جان کو تو کرے ہنس کے گفتگوتھی رونے کی جگہ کہ بخود ہم نہ تھے نہ تولب ہاے زخم تھے لب خندان کربلا
ہفتم سے آب و دانہ کا قدغن ہوا تھا یاںجز ذکر تیغ تیز کچھ آیا نہ درمیاںسادات کشتہ جانتے ہیں یا انھوں کی جاںجو دیکھ کر موئے ہیں یہ حرمان کربلا
کروبیوں کے گوش مگر کر تھے اس گھڑیجس وقت کشت و خون کی یاں دھوم تھی پڑیصف عورتوں کی لاشوں پہ چلاتی تھی کھڑیمحشر بہ بر تھا ہر دل نالان کربلا
یاں سے نہیں چلے ہیں ہم ایسے ہو پائمالجو خاطروں سے اپنے فراموش ہو یہ حالاب جاچکی دلوں سے یہ حیرانی و ملالرہیے گا زندگی تئیں حیران کربلا
القصہ پیٹ روکے گئے آگے وے اسیردل چاک سر میں خاک جواں اور خرد و پیربس تو بھی اپنے ہاتھ سے رکھ کر قلم کو میرؔکہہ باد سے کہ ہووے گل افشان کربلا
بعد از نماز و سجدہ کرے در پہ التماسکاے شاہ بندہ پرور و قدر گداشناسمقصود میرؔ یہ ہے کہ اب ترک کر لباسجوں زائران چاک گریبان کربلا
ہندوستاں سے قطرہ زن آوے چلا ہوامانند ابر چند پھرے دل بھرا ہواتو ملتفت ہوا کہ یہ مطلب روا ہوادیوے گا پھر نہ ہاتھ سے دامان کربلا
۵۷۴ / ۵۸۲